
صادق پبلک سکول بہاولپور میں غیر قانونی فیسوں میں ہوشربا اضافے، عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی اور طلبہ کو مسلسل ذہنی اذیت دینے کے خلاف طلبہ کے والدین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکول انتظامیہ کے طرزِ عمل کو غیر قانونی، غیر اخلاقی اور بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
پریس کانفرنس میں والدین نے بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے طلبہ خوف، ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ فیسوں کے نام پر بچوں کو ہراساں کرنا، دھمکیاں دینا، تضحیک آمیز رویہ اختیار کرنا اور تعلیمی مستقبل کو یرغمال بنانا ایک ایسا عمل ہے جس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
غیر قانونی فیس ہائیک پر شدید تحفظات
والدین کے مطابق اگست 2024 میں سکول انتظامیہ نے اچانک 70 سے 100 فیصد فیسوں میں اضافہ کر دیا اور والدین کو صرف تین دن کا وقت دیا گیا۔ اس اضافے کے لیے نہ کوئی قانونی منظوری لی گئی اور نہ ہی والدین سے مشاورت کی گئی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ صادق پبلک سکول نواب سر صادق محمد خان عباسی کی علمی میراث ہے، جس کے اخراجات طلبہ کی فیسوں کے بجائے سکول کی ساڑھے چار سو ایکڑ قیمتی شہری زمین کی آمدنی سے پورے کیے جانے تھے، جو موجودہ دور میں کروڑوں روپے سالانہ بنتی ہے۔
عدالتی احکامات کی مسلسل توہین
والدین کے مطابق انتظامیہ سے بات چیت کے تمام دروازے بند کیے گئے جس پر معاملہ ہائی کورٹ لے جایا گیا۔ عدالت نے اگست 2024 میں واضح سٹے آرڈر جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ کیس کے فیصلے تک پرانی فیسیں ہی وصول کی جائیں۔
اس کے باوجود نومبر 2024 میں سکول انتظامیہ نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بچوں کو سکول گیٹ پر روکا، سرد موسم میں واپس بھیجا اور بالخصوص گرلز سیکشن میں طالبات کو دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
عدالت نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سکول پرنسپل کو طلب کیا، غیر قانونی سرکولر واپس کروایا اور واضح حکم دیا کہ کسی بچے کو تعلیم سے محروم نہیں کیا جائے گا۔
مسلسل غلط بیانی اور دباؤ کی پالیسی
والدین نے بتایا کہ جولائی 2025 میں عدالت نے سکول کو 60 دن میں فیسوں کے تعین کا شفاف نظام بنانے اور والدین کو آن بورڈ لینے کا حکم دیا، تاہم انتظامیہ نے والدین کی تمام تجاویز مسترد کرتے ہوئے ایک مبہم رپورٹ عدالت میں جمع کروائی اور دوبارہ اضافی فیسوں کے ووچر جاری کر دیے۔
یہ ووچر اکتوبر 2025 میں دوبارہ عدالت میں چیلنج کیے گئے، جبکہ کیس کی اگلی سماعت 21 جنوری 2026 کو مقرر ہے۔
والدین کے مطابق سکول انتظامیہ مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی رہی کہ کیس ختم ہو چکا ہے اور والدین راضی ہو گئے ہیں، جو حقائق کے منافی ہے۔
بچوں کا تعلیمی مستقبل یرغمال
پریس کانفرنس میں انکشاف کیا گیا کہ سکول انتظامیہ نے بچوں کے رزلٹ کارڈز روک رکھے ہیں، کلیئرنس سرٹیفکیٹس جاری نہیں کیے جا رہے اور پاس آؤٹ طلبہ کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، جس سے بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔
مطالبات اور اپیل
والدین نے مطالبہ کیا کہ عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد کیا جائے، غیر قانونی فیس ووچر واپس لیے جائیں، بچوں کو ہراساں کرنا بند کیا جائے اور سکول میں ایک شفاف، قانونی اور منصفانہ نظام نافذ کیا جائے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی، جبکہ چیف آف ڈیفینس فورس فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس تاریخی تعلیمی ادارے کو منافع خور سوچ سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
والدین کا کہنا تھا کہ تعلیم کاروبار نہیں اور بچے کسی دباؤ یا انتقام کا نشانہ نہیں بننے چاہییں