صادق پبلک سکول انتظامیہ کی ہٹ دھرمی جاری

7

 (ڈاکٹر جواد خان)بہاولپور: 

صادق پبلک اسکول کی انتظامیہ عدالت کے واضح فیصلے کی من مانی تشریح کرتے ہوئے اس کی صریحاً خلاف ورزی کر رہی ہے اور عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں۔ دور دراز علاقوں سے واپس آنے والے بورڈر طلبہ کو اسکول میں داخلے سے روک دیا گیا ہے، حالانکہ عدالتِ عالیہ میں زیرِ سماعت کیس کے دوران معزز ہائی کورٹ نے واضح حکم دیا تھا کہ کسی بھی بچے کو اسکول میں داخلے یا کلاس میں بیٹھنے سے نہیں روکا جائے گا۔

شدید سردی کے موسم میں طلبہ کو ہاسٹل سے بے دخل کر دیا گیا، جس کے باعث بچے دربدر ہو گئے اور والدین شدید ذہنی اذیت، دکھ اور مایوسی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود، کل ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی سماعت ہونے کے بعد بھی اسکول کے اکاؤنٹنٹ، وارڈن اور پرنسپل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور والدین کو صاف الفاظ میں کہا گیا کہ جب تک اضافی فیس جمع نہیں کروائی جائے گی، بچوں کو اسکول میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مزید برآں، والدین پر دباؤ ڈالنے اور بلیک میل کرنے کے لیے اسکول کا اکاؤنٹس آفس رات گئے تک کھلا رکھا گیا اور زبردستی فیسوں کی وصولی کا عمل جاری رکھا گیا۔

بچے نواب صاحب کے اس عظیم الشان تعلیمی منصوبے اور مادرِ علمی کے موجودہ سفاک اور غیر انسانی رویے کو دیکھ کر شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ والدین ایکشن کمیٹی اربابِ اختیار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔

اسی سلسلے میں بروز پیر، 19-01-2026 کو اسکول گیٹ پر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے بعد ہائی کورٹ میں پیشی اور اعر چوک فوارہ تک پرامن احتجاج کیا جائے گا۔ کمشنر صاحب، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں۔

تمام دستیاب فورمز پر اس ظالمانہ اور غیر قانونی رویے کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ شدید سردی میں ہاسٹل سے بے دخل کیے گئے بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کی مکمل ذمہ داری اسکول انتظامیہ پر عائد ہوگی، اور اس مجرمانہ فعل کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

سول سوسائٹی، پریس کلب اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس سے گزارش ہے کہ کل صبح آٹھ بجے موقع پر پہنچ کر خود اسکول انتظامیہ کے رویے کا مشاہدہ کریں

 

مزید خبریں

آپ کی راۓ