
اسلام آباد: محمود خان اچکزئی کے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ اس تقرری کے پس منظر میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا نواز شریف اور محمود خان اچکزئی کے باہمی روابط سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں یا پھر اچکزئی اس معاملے سے خود کو الگ رکھیں گے۔
سیاسی تجزیہ کار حماد حسن کے مطابق محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے سے حزبِ اختلاف میں موجود عدم توازن اور پاکستان تحریک انصاف کی جارحانہ سیاست میں واضح کمی آئے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اپوزیشن زیادہ ذمہ دار، متوازن اور پارلیمانی روایات کے مطابق کردار ادا کرے گی، جس سے مجموعی سیاسی ماحول میں کشیدگی کم ہونے کا امکان ہے۔
حماد حسن کے مطابق محمود خان اچکزئی اور نواز شریف کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں، اور اسی بنیاد پر انہیں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے نہ صرف آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو قائل کیا بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی اعتماد میں لیا۔ ان کے بقول اس فیصلے کا ایک اہم مقصد بلوچستان کے بگڑتے حالات کے تناظر میں صوبے کو قومی سطح پر مؤثر سیاسی نمائندگی فراہم کرنا تھا۔
عمران خان کی رہائی: کوششیں یا قیاس؟
حماد حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے محمود خان اچکزئی سے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں، اور امکان ہے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدہ کوششیں کریں گے۔ ان کے مطابق چونکہ اچکزئی کی تقرری میں نواز شریف کا کردار نمایاں رہا ہے، اس لیے سیاسی سطح پر مذاکرات کے آغاز کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
تاہم سیاسی ماہر ماجد نظامی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں عمران خان کی رہائی محض قیاس آرائی ہے، البتہ محمود خان اچکزئی ایک ذمہ دار اپوزیشن کے ذریعے تحریک انصاف کے لیے کچھ رعایتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اچکزئی کو خود پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست اور مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماجد نظامی کے مطابق اگرچہ نواز شریف اور محمود خان اچکزئی کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ رہا ہے اور بلوچستان میں وہ مل کر حکومت بھی بنا چکے ہیں، تاہم پی ڈی ایم کے بعد اور 9 فروری کے انتخابات کے بعد سیاسی حالات خاصے بدل چکے ہیں۔ ان کے بقول ذاتی احترام اپنی جگہ، مگر اس بنیاد پر یہ کہنا کہ عمران خان کو کوئی بڑا ریلیف مل جائے گا، فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔
نواز شریف کا فیصلہ کن کردار
سیاسی تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق نواز شریف اور محمود خان اچکزئی کے تعلقات کی جڑیں کافی پرانی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کی تشکیل بھی اسی سیاسی سوچ کا تسلسل تھی، اور یہی اعتماد بعد ازاں اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی کا سبب بنا۔
احمد ولید کے مطابق اگرچہ عمران خان بھی محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر دیکھنا چاہتے تھے، تاہم سیاسی رکاوٹوں کو دور کرنے میں نواز شریف نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ تاہم عمران خان کی فوری رہائی کے امکانات کے حوالے سے وہ خاصے محتاط نظر آتے ہیں۔
ان کے بقول اصل اور مرکزی اپوزیشن خود عمران خان ہیں، اور یہ سوال اہم ہے کہ آیا وہ محمود خان اچکزئی کو مکمل مینڈیٹ دیں گے کہ وہ ان کی جانب سے مذاکرات کریں۔ کیونکہ عمران خان کی واضح خواہش ہے کہ مذاکرات براہِ راست اسٹیبلشمنٹ سے ہوں، نہ کہ سیاسی جماعتوں یا حکومتی شخصیات سے۔
نتیجہ
سیاسی تجزیہ کاروں کی مجموعی رائے یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی کی تقرری سے اپوزیشن کے لہجے اور طرزِ سیاست میں نرمی آ سکتی ہے، تاہم عمران خان کی رہائی یا کسی بڑے سیاسی بریک تھرو کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں۔ گرینڈ اپوزیشن کی باتیں ضرور ہو رہی ہیں، مگر موجودہ سیاسی حقائق میں ایسی ہمہ گیر اپوزیشن کو یکجا کرنا ایک مشکل چیلنج قرار دیا جا رہا ہے