
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی نے شہر کو سوگوار کر دیا۔ واقعے میں اب تک 15 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 65 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جائے حادثہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن کی پیش رفت، جانی و مالی نقصانات اور متاثرین کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے اور خدشہ ہے کہ ملبے سے مزید لاشیں بھی برآمد ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق فائر فائٹرز تین مختلف مقامات سے عمارت کے اندر داخل ہو کر انتہائی خطرناک حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
انہوں نے اس دوران ایک فائر فائٹر کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہید فائر فائٹر کے والد بھی اسی شعبے سے وابستہ تھے، جو اس قربانی کو مزید قابلِ احترام بنا دیتا ہے۔
پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ سانحے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے مالی امداد دی جائے گی۔ اس کے علاوہ جن تاجروں کا کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، ان کے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات میں متاثرین کو معاوضہ دیا گیا اور اس بار بھی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ ریسکیو اور امدادی کارروائیاں مکمل ہونے تک جاری رہیں گی