سپریم لیڈر پے حملہ پوری امت مسلمہ پر حملہ ہوگا: ایران

16

تہران: ایران کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق پارلیمانی کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای پر کسی بھی قسم کا حملہ پوری مسلم دنیا کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔

ایرانی پارلیمانی کمیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ کیا گیا تو دنیا بھر کے علما جہاد کا فتویٰ جاری کریں گے، جس کے بعد عالمِ اسلام کے مختلف حصوں میں شدید ردعمل سامنے آئے گا۔ کمیشن کے مطابق فتویٰ کے بعد ’’اسلام کے سپاہیوں‘‘ کا عالمی سطح پر ردعمل ناگزیر ہوگا۔

ادھر ایرانی صدر نے بھی واضح الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم لیڈر پر کوئی بھی حملہ مکمل جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا بیان دیا تھا۔ ٹرمپ کا یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا جب ایران میں حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے ملک گیر احتجاج کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں۔

اس سے قبل ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں ہلاکتوں اور بدامنی کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا تھا۔ اس بیان کے ردعمل میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کے حکمران حکومت چلانے کے لیے جبر اور تشدد پر انحصار کرتے ہیں، جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی قیادت اور امریکی صدر کے درمیان بیانات کی اس جنگ نے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

مزید خبریں

آپ کی راۓ