گرین لینڈ کی خود مختاریری ریڈ لائن ہے: وزیراعظم گرین لینڈ

6

گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن نے واضح کیا ہے کہ آرکٹک جزیرے کی خودمختاری ان کے لیے ایک “ریڈ لائن” ہے، جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیان انہوں نے اس وقت دیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے ساتھ طے پانے والے ایک فریم ورک کے تحت گرین لینڈ تک “مکمل رسائی” حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔

گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نیلسن نے کہا کہ وہ اب بھی اس معاہدے کی کئی تفصیلات سے لاعلم ہیں، جو ایک روز قبل ٹرمپ اور نیٹو چیف کے درمیان ملاقات میں طے پایا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا:

“مجھے معلوم نہیں کہ اس معاہدے یا ڈیل میں میرے ملک کے بارے میں کیا شامل ہے۔ ہم بہت سے معاملات پر بات چیت اور بہتر شراکت داری کے لیے تیار ہیں، لیکن خودمختاری ایک ریڈ لائن ہے۔”

انہوں نے ان خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ میں امریکی فوجی اڈوں کے اطراف کے علاقوں پر کنٹرول چاہتے ہیں۔ نیلسن نے دوٹوک انداز میں کہا کہ

“ہم ان سرخ لکیرں کو عبور نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنی علاقائی سالمیت، بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا۔”

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے حوالے سے بیانات میں تیزی پیدا کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ امریکی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے اور اس کے ذریعے آرکٹک خطے میں چین اور روس کے اثر و رسوخ کو روکا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے ان بیانات نے امریکا اور یورپی ممالک کے تعلقات کو کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچا دیا ہے اور نیٹو کے مستقبل کے حوالے سے بھی خدشات کو جنم دیا ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ