
جنوبی افریقہ نے برکس ممالک کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں میں ایران کی شرکت پر باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ مشقیں صدر سیرل رامافوسا کی ہدایات کے برخلاف کی گئیں، جس پر حکومت کے اندر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
برکس (BRICS) دس ممالک پر مشتمل گروپ ہے جن میں برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، بھارت، انڈونیشیا، ایران، روس، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ اس اتحاد کی بنیاد 2006 میں رکھی گئی تھی، جس کا ابتدائی مقصد تجارتی تعاون تھا، تاہم بعد ازاں اس کے دائرہ کار میں سیکیورٹی اور ثقافتی روابط بھی شامل کر لیے گئے۔
جنوبی افریقہ کی بحری حدود میں ہونے والی مشترکہ بحری مشقیں 16 جنوری کو اختتام پذیر ہوئیں۔ ان مشقوں نے ملک میں خاصی بحث کو جنم دیا جبکہ امریکا کی جانب سے بھی سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اگرچہ جنوبی افریقہ ماضی میں روس اور چین کے ساتھ ایسی مشقیں کرتا رہا ہے، تاہم ایران کی شمولیت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکا اور برکس کے بعض رکن ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
واضح رہے کہ ایران حال ہی میں اندرونی سطح پر شدید احتجاجی مظاہروں کا سامنا کر رہا تھا جو بعض مقامات پر پرتشدد بھی ثابت ہوئے۔ جنوبی افریقہ کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ “ول فار پیس 2026” کے نام سے ہونے والی یہ مشقیں سمندری سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تھیں، جن کا مقصد برکس پلس ممالک کی بحری افواج کے درمیان ہم آہنگی اور مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ، جو پہلے ہی برکس کو “امریکا مخالف اتحاد” قرار دے چکی ہے اور رکن ممالک پر تجارتی پابندیوں کی دھمکیاں دیتی رہی ہے، نے ان بحری مشقوں پر سخت تنقید کی ہے۔
تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد اس معاملے پر جنوبی افریقہ کی خارجہ اور دفاعی پالیسی پر مزید بحث متوقع ہے