ٹک ٹاک کا بڑا اعلان

26

ٹک ٹاک نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت یہ مقبول شارٹ ویڈیو ایپ امریکا میں اپنی سروس جاری رکھ سکے گی۔ یہ پیش رفت واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کئی برسوں سے جاری کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے، جس کا آغاز سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جب قومی سلامتی کے خدشات کے باعث ٹک ٹاک پر پابندی کی کوشش کی گئی تھی۔

امریکی قانون کے مطابق اگر ٹک ٹاک کی چینی مالک کمپنی بائٹ ڈانس جنوری 2025 تک اپنے امریکی آپریشنز امریکی سرمایہ کاروں کو فروخت نہ کرتی تو ایپ پر پابندی عائد ہونا تھی۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار اس قانون کے نفاذ کو مؤخر کیا، جس سے ٹک ٹاک کو مہلت ملتی رہی۔

اس تنازعے کی بنیادی وجہ ٹک ٹاک کا طاقتور الگورتھم تھا، جو صارفین کو دکھائے جانے والے مواد کا تعین کرتا ہے۔ نئے معاہدے کے تحت یہ الگورتھم ٹک ٹاک کے امریکی مالکان کو لائسنس کر دیا گیا ہے اور اب اسے صرف امریکی صارفین کے ڈیٹا پر تربیت دی جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد ایپ کے مواد اور سفارشات کے نظام میں واضح فرق آ سکتا ہے، تاہم یہ 200 ملین سے زائد امریکی صارفین کے تجربے کو کس حد تک متاثر کرے گا، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ