امریکی شہری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا

1
  • ہفتہ، 24 جنوری 2026 کو جنوبی منیاپولِس میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں نے ایک 37 سالہ مرد کو گولی مار کر ہلاک کیا
  • پولیس کے مطابق یہ شخص عسکری اہلکاروں کے ساتھ تصادم میں تھا اور اس کے پاس ہتھیار (ریولور/ہینڈگن) بھی تھا۔ وفاقی محکمہ کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے اسے “خود کو بچانے کے لیے” گولی ماری۔ 
  • مقامی حکام نے بتایا ہے کہ مقتول امریکی شہری اور قانونی بندوق رکھنے والا تھا، اور اس کے خلاف کوئی سنگین جرم ثابت نہیں ہوا۔ 
  • واقعہ کے بعد شہری سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرین اور وفاقی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
  • مظاہرین نے وفاقی امیگریشن فورسز کے خلاف نعرے لگائے اور سخت تنقید کی ہے۔ 
  • منیاپولِس کے پولیس چیف اور مقامی حکام نے پر امن رہنے اور تشدد سے گریز کی اپیل کی ہے۔
  • گورنر ٹم والز نے واقعے کو “خوفناک” قرار دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وفاقی ٹیم پر تنقید کی ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ **امیگریشن فورسز … ریاست سے واپس بلائی جائیں۔” 
  • صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر منیاپولِس کے میئر اور گورنر پر “انصار کی حرکت (insurrection)” پھیلانے کے الزامات لگائے ہیں۔
  • واقعے نے امریکہ میں وفاقی طاقت، شہری آزادی، اور امیگریشن پالیسی کے بارے میں سیاسی بحث کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ 

یہ تازہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب 7 جنوری 2026 کو ایک اور امریکی خاتون، رینی گڈ (Renée Good) کو ایک ICE اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

  • رینی گڈ، جو ایک 37 سالہ امریکی شہری تھیں، ان کے قتل نے ملک بھر میں شدید احتجاج اور شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ 

 

اس واقعے نے منیاپولِس کے حالات کو پرجوش احتجاج، سیاسی بیانات، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوامی عدم اعتماد میں تبدیل کر دیا ہے، جبکہ امریکی امیگریشن پالیسی اور وفاقی کارروائیوں پر تیزی سے بحث جاری ہے۔ 

مزید خبریں

آپ کی راۓ