فعال سفارتکاری پاک امریکہ تعلقات نئی بلندیوں پر: امریکی جریدہ

23

واشنگٹن میں متحرک، متوازن اور بروقت سفارتی حکمتِ عملی کے نتیجے میں پاکستان نے امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سراہتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام آباد نے علاقائی کشیدگی اور عالمی سیاسی تبدیلیوں کو نہ صرف مؤثر انداز میں سنبھالا بلکہ انہیں اپنے قومی مفاد میں ڈھالنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔

علاقائی کشیدگی کو سفارتی موقع میں بدلنے میں کامیابی

رپورٹ کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات جمود کا شکار ہو گئے۔ اس صورتحال میں پاکستان نے دانشمندانہ سفارتکاری کے ذریعے خود کو ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا، جس سے امریکا میں پاکستان کا سفارتی وزن نمایاں طور پر بڑھا۔

اعلیٰ سطحی روابط اور تعلقات میں نئی جان

دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاک بھارت جنگ کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس مدعو کرنا ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت تھی۔ بعد ازاں ستمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وائٹ ہاؤس دورے نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ان ملاقاتوں میں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون جیسے اہم امور بھی زیرِ بحث آئے۔

تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کی بحالی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی سے متعلق تجارتی معاہدہ طے پایا، جسے پاک امریکا تعلقات کے ایک مضبوط اور دیرینہ ستون کی بحالی قرار دیا گیا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان بڑے تیل ذخائر کی مشترکہ ترقی کا اعلان بھی معاشی شراکت داری کی ایک نئی مثال ہے۔

اسی تسلسل میں دسمبر 2025 میں امریکا نے پاکستان کو ایف-16 طیاروں کے اپ گریڈ کی منظوری دی، جسے دفاعی تعاون کی بحالی کا اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بھی دوبارہ فعال ہو گیا ہے۔

چین سے تعلقات اور امریکی ردِعمل

بین الاقوامی جریدے کے مطابق جنوری 2026 میں پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے قریبی اور اسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت واضح کی، جس پر امریکا کی جانب سے کوئی منفی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ اس کے برعکس امریکا نے بلوچستان میں سرگرم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر کے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی۔

بھارت کو سفارتی و تجارتی دھچکا

دی ڈپلومیٹ کے مطابق امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدہ طے نہ پا سکا، جس کے نتیجے میں واشنگٹن نے نئی دہلی پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔ اس اقدام سے بھارت کو سفارتی تنہائی اور معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ خطے میں طاقت کا توازن پاکستان کے حق میں جاتا دکھائی دیا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود بروقت فیصلوں، متوازن خارجہ پالیسی اور فعال سفارتکاری کے ذریعے خود کو ایک بار پھر عالمی سطح پر ایک مؤثر اور ذمہ دار ریاست کے طور پر منوایا ہے۔ امریکا کے ساتھ تعلقات میں آنے والی یہ بہتری نہ صرف خطے کی سیاست بلکہ معیشت پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ