پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان امیگریشن ایشوپے معاہدہ

1

پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے یو اے ای جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس کے حوالے سے باضابطہ معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے بعد پاکستانی مسافر یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

وزارت داخلہ کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس معاہدے پر بات چیت ہوئی، جس کی قیادت یو اے ای کے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی نے کی۔ محسن نقوی نے کہا کہ اس نظام کے تحت مسافروں کی امیگریشن کارروائی پاکستان میں مکمل ہو جائے گی، اور مسافر یو اے ای پہنچنے پر براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے، بالکل ڈومیسٹک پروازوں کی طرح۔

انہوں نے بتایا کہ یہ نظام ابتدا میں پائلٹ منصوبے کے طور پر کراچی سے شروع کیا جائے گا، جبکہ دیگر شہروں میں بعد میں توسیع کی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے توقع ظاہر کی کہ یہ اقدام پاکستانی شہریوں کے سفر کو آسان بنانے اور مجموعی سفری تجربے کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ معاہدے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ ادارے باہمی رابطہ رکھیں گے۔

ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانی شہریوں کو یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا تھا۔

نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا تھا کہ یو اے ای نے پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری کرنے میں مشکلات پیدا کر رکھی ہیں، اور سعودی عرب و یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی لگانے کے قریب ترین اقدامات کیے ہیں

مزید خبریں

آپ کی راۓ