
واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے آئندہ ایک ایسے حملے کا سامنا کرنا پڑے گا جو پہلے سے کہیں زیادہ بدتر ہوگا۔
خبر ایجنسی کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایک بہت بڑا امریکی بحری بیڑا تیزی کے ساتھ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بحری بیڑا مکمل طاقت، جوش اور واضح مقصد کے ساتھ پیش قدمی کر رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس بحری بیڑے کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کر رہا ہے، جو وینزویلا کی جانب بھیجے گئے بحری بیڑے سے بھی بڑا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بحری بیڑا بھی کسی بھی ضرورت کے وقت طاقت کے استعمال سے اپنا مشن فوری طور پر مکمل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا کی خواہش ہے کہ ایران جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آئے اور ایک منصفانہ اور مساوی معاہدے پر بات چیت کرے۔ ان کے مطابق ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جس میں ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں کی کوئی گنجائش نہ ہو اور جو تمام فریقین کے مفاد میں ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور صورتحال نہایت سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی ایران کو معاہدہ کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں، مگر ایران نے انکار کیا، جس کے بعد آپریشن مڈنائٹ ہیمر کیا گیا اور ایران کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر دھمکی دہراتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے اب بھی معاہدہ نہ کیا تو اگلا حملہ کہیں زیادہ شدید اور تباہ کن ہوگا، لہٰذا ایران کو چاہیے کہ ایسا دوبارہ ہونے سے روکے۔
واضح رہے کہ امریکا نے 22 جون 2025 کو ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملہ کیا تھا، جسے امریکا نے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کا نام دیا۔ امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی جوہری تنصیبات اور صلاحیتیں مکمل طور پر محفوظ ہے