امریکہ کی ایران کے قریب فوجی طاقت میں اضافہ،حملے کے خدشات

43

واشنگٹن / مشرقِ وسطیٰ:

امریکا نے ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکی بحریہ کا ایٹمی طاقت سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن حالیہ دنوں میں بحیرۂ عرب میں تعینات کیا گیا ہے۔ یہ جہاز ان متعدد امریکی فوجی اثاثوں میں شامل ہے جو امریکا نے حالیہ دنوں میں خطے میں منتقل کیے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق، یو ایس ایس ابراہم لنکن کو مشرقِ وسطیٰ میں “علاقائی سلامتی اور استحکام کے فروغ” کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ یہ جہاز نومبر میں کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو سے روانہ ہوا تھا اور گزشتہ ہفتے تک بحیرۂ جنوبی چین میں سرگرم تھا۔

ادھر امریکی فضائیہ کی سینٹرل کمانڈ (اے ایف سینٹ) نے بھی اپنے زیرِ نگرانی علاقوں میں کئی روزہ فوجی تیاریوں اور مشقوں کا اعلان کیا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے 20 سے زائد ممالک پر مشتمل ہیں جہاں امریکا کے فوجی اڈے موجود ہیں۔

اے ایف سینٹ کے بیان کے مطابق ان مشقوں کا مقصد فوجی اہلکاروں اور سازوسامان کی فوری تعیناتی کی صلاحیت کو بہتر بنانا، میزبان ممالک کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط کرنا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں “لچکدار ردعمل” کے لیے تیاری کرنا ہے۔ مشقوں کے مقام اور وقت سے متعلق تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ امریکا اس سے قبل بھی جون میں ہونے والی 12 روزہ ایران–اسرائیل جنگ کے دوران خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی اثاثے تعینات کر چکا ہے، جب واشنگٹن نے اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے تین جوہری مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔

ایران میں حالیہ مہینوں کے دوران بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے، جن کا آغاز ملکی کرنسی کی گراوٹ کے خلاف ہوا، تاہم بعد ازاں مظاہرین نے حکومتی تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا۔ اقوامِ متحدہ کے ایران سے متعلق خصوصی نمائندے کے مطابق ان مظاہروں کے دوران کم از کم 5 ہزار افراد ہلاک جبکہ ہزاروں کو حراست میں لیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حالات پر ایران کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مظاہرین کو یقین دلایا کہ “مدد راستے میں ہے”۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو سزائے موت دی گئی تو امریکا فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

گزشتہ ہفتے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی اثاثے “احتیاطاً” خطے میں بھیجے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، “ہمارا ایک بڑا بحری بیڑا اس سمت بڑھ رہا ہے، ممکن ہے ہمیں اسے استعمال ہی نہ کرنا پڑے۔”

تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے مظاہرین کو پھانسی دی تو امریکی کارروائی جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے مقابلے میں “کچھ بھی نہیں” ہوگی۔

ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیانات اور ایران کے ساحل کے قریب امریکی فوجی نقل و حرکت اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہے کہ آئندہ دنوں میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ