ایران کسی بھی فوجی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیارہے: پاسداران انقلاب

29

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے کہا ہے کہ ملک کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ فوجی صورتحال کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا (IRNA) کے مطابق فوجی قیادت نے دشمن کی کسی بھی کارروائی کا سخت جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے فارسی زبان کے آفیشل اکاؤنٹ نے ایرانی حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو لاشیں وصول کرنے کے لیے جھوٹے اعترافی بیانات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی نئی پابندیاں

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایران پر نئی پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ پابندیاں اُن افراد اور اداروں پر عائد کی گئی ہیں جو مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن اور روس کی حمایت میں ایران کے کردار سے منسلک ہیں۔ یورپی ذرائع کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کا مؤقف

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا دورۂ ترکی

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعہ کے روز ایک سرکاری دورے پر ترکیہ روانہ ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق دورے کے دوران دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔

احتجاجات، گرفتاریاں

ایران کے وسطی صوبے یزد میں پولیس نے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں 27 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ اطلاع نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے دی ہے۔

سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں اور امریکی ڈالر کی مسلسل کمزوری ہے۔

ادھر تہران میں اخبارات کی ایک تصویر بھی سامنے آئی ہے جس میں فارسی زبان کی سرخی نمایاں ہے:

“ایران بڑے جواب کے لیے تیار ہے”۔

ماہرین کی رائے

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ایران پراجیکٹ ڈائریکٹر علی واعظ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی فوجی دھمکیاں اور یورپی پابندیاں ایران کو امریکی شرائط ماننے پر مجبور کرنے میں ناکام رہیں گی۔

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے علی واعظ نے کہا:

“ایرانی قیادت کے نزدیک امریکی حملے سے زیادہ خطرناک چیز امریکی شرائط کے سامنے جھکنا ہے، اسی لیے دباؤ کی یہ پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔”

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی پابندیاں محض علامتی اقدام ہیں اور ان سے زمینی حقائق پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ پاسدارانِ انقلاب پہلے ہی متعدد پابندیوں کی زد میں ہیں۔

خطے میں ایران، امریکا اور یورپ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ اندرونِ ملک احتجاج، گرفتاریوں اور عالمی دباؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ایران کے ردِعمل اور عالمی طاقتوں کے اقدامات خطے کے مستقبل کا رخ متعین کریں گے۔

مزید خبریں

آپ کی راۓ