ورلڈ کپ ٹی 20 بھارت سے سری لنکا منتقلی کامطالبہ زور پکڑ گیا

26

نئی دہلی/کولکتہ — بھارت پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ نیپا وائرس (Nipah Virus) کی وبا کی شدت کو جان بوجھ کر کم ظاہر کر کے بین الاقوامی کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جس کے بعد 2026 آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کو سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔

سرکاری طور پر بھارتی حکام دسمبر 2025 سے مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے صرف دو کیسز تسلیم کر رہے ہیں، تاہم آزاد ذرائع اور غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق کولکتہ میں اسپتالوں سے منسلک کم از کم پانچ انفیکشنز سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں نوسوکومیئل کلسٹرز کے ذریعے متاثر ہونے والے طبی عملے کے افراد بھی شامل ہیں، جو صورتِ حال کی سنگینی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق نیپا وائرس کی شرحِ اموات 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو اسے نہایت خطرناک وباؤں میں شامل کرتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ 2026 ٹی20 ورلڈ کپ سے قبل صورتحال پر قابو پانے کا تاثر دینے کے لیے اصل حقائق چھپائے جا رہے ہیں، حالانکہ کولکتہ کا تاریخی ایڈن گارڈنز بھی ورلڈ کپ کے میزبان مقامات میں شامل ہے۔

اس طرزِ عمل سے بین الاقوامی کھلاڑیوں، میچ آفیشلز اور تماشائیوں کو غیر ضروری صحت کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، خصوصاً اس تناظر میں کہ بھارت میں ماضی کے بین الاقوامی اسپورٹس ایونٹس کے دوران ناقص صفائی اور غیر محفوظ حالات کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔

حال ہی میں 2026 انڈیا اوپن سپر 750 بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کے دوران غیر ملکی کھلاڑیوں نے گندے ٹریننگ ہالز، پرندوں کی بیٹ، آوارہ جانوروں کی موجودگی، شدید سردی اور زہریلی فضائی آلودگی کی شکایات کیں۔ بعض کھلاڑیوں نے حفاظتی خدشات کے باعث ٹورنامنٹ سے دستبرداری بھی اختیار کی۔

ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت اس وقت کھلاڑیوں کی صحت کو یقینی بناتے ہوئے عالمی معیار کے بڑے ایونٹس کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ وبا سے متاثرہ علاقوں کے قریب کرکٹ وینیوز، ناقص صفائی اور انتظامی ناکامیوں کے پیشِ نظر بھارت میں ٹی20 ورلڈ کپ کے میچز کا انعقاد غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ان حالات میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ آئی سی سی تمام ٹی20 ورلڈ کپ میچز سری لنکا منتقل کرے، جہاں بہتر صحت نگرانی کا نظام اور نسبتاً محفوظ سہولیات کھلاڑیوں اور شائقین کے تحفظ کو یقینی بنا سکتی ہیں۔

مبصرین کے مطابق بھارت میں ایونٹس جاری رکھنا نہ صرف قیمتی جانوں کو خطرے میں ڈالے گا بلکہ یہ آمدن اور ظاہری تاثر کو عالمی سلامتی اور ذمہ داری پر ترجیح دینے کی ایک خطرناک مثال بھی قائم کرے گا

مزید خبریں

آپ کی راۓ