پاکستان کشیدگی کم کرنے کی مخلصانہ کوششوں میں: ایرانی سفیر

21

اسلام آباد: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مخلصانہ سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ کوئی فوجی کارروائی نہ ہو۔

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران ایرانی سفیر نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطح پر مسلسل رابطہ موجود ہے، اور ایران نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں اضافے سے پورے خطے کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اور ایران کسی نئی کشیدگی کا خواہاں نہیں۔

ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے واضح کیا کہ امریکا کے مطالبات قابلِ قبول نہیں، جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

امریکی مذاکراتی دعوے بے بنیاد ہیں

ایرانی سفیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے مذاکرات کے دعووں کو زمینی حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان بیانات کا مقصد اندرونی سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا عالمی برادری کے سامنے مذاکرات کا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ ایسے دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔

پرتشدد واقعات میں بیرونی مداخلت کے شواہد

ایرانی سفیر نے بتایا کہ 8 جنوری کو ایران کے چند شہروں میں اچانک پرتشدد واقعات پیش آئے، جہاں منظم ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پُرامن احتجاج کے دوران پولیس کی موجودگی حفاظتی اقدام کے طور پر تھی اور سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے تحفظ کی ہدایات دی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اشتعال انگیزی کی گئی، جبکہ گرفتار افراد نے بیرونی ہدایات ملنے کا اعتراف کیا ہے۔

تحقیقات میں دہشتگرد گروہوں، منافقین اور دیگر مسلح تنظیموں کے روابط سامنے آئے۔

ڈاکٹر رضا امیری مقدم کے مطابق 8 سے 11 جنوری کے دوران صورتحال انتہائی کشیدہ رہی، تاہم 12 جنوری کے بعد حالات بتدریج قابو میں آنا شروع ہو گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 13 جنوری کو امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پر سرکاری اداروں پر قبضے کی ترغیب دی گئی

مزید خبریں

آپ کی راۓ