
سینیئر سیاستدان مشاہد حسین سید کی جانب سے سامنے آنے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو ترکیہ آنے کی پیشکش کی تھی تاہم وفاقی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی معاملہ زیر غور نہیں اور عمران خان خود بھی ملک سے باہر جانے کے خواہاں نہیں ہیں۔
سابق سینیٹر مشاہد حسین سید کے مطابق صدر اردوان نے عمران خان کو ترکیہ آنے کی آفر دی تھی ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش بڑے مسائل کے حل کے لیے اس معاملے کا حل ناگزیر ہے، کیونکہ دہشت گردی اور معیشت کی بہتری جیسے چیلنجز سیاسی مفاہمت کے بغیر حل نہیں ہو سکتے۔
مشاہد حسین سید نے مزید کہا کہ سیاست میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا، اور نومبر 2024 میں عمران خان کی رہائی سے متعلق فیصلہ بھی ہوا تھا، تاہم ان کے بقول عمران خان کے بعض ناتجربہ کار ساتھیوں نے اس موقع کو ضائع کر دیا۔
وفاقی حکومت کی تردید
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسی کسی پیشکش کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دو سے تین مرتبہ وزیراعظم کے ہمراہ ترکیہ کے دورے پر جا چکے ہیں اور ان دوروں کے دوران صدر طیب اردوان سے ملاقاتیں بھی ہوئیں، تاہم کبھی عمران خان کو ترکیہ آنے کی دعوت پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ اگر ایسی کوئی پیشکش ہوئی ہے تو اس بارے میں مشاہد حسین سید ہی بہتر وضاحت دے سکتے ہیں کہ یہ کب اور کس ذریعے سے سامنے آئی۔
شیر افضل مروت کا مؤقف
سینیئر سیاستدان شیر افضل مروت نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ترک صدر کو کوئی دعوت دینی تھی تو بہتر ہوتا کہ وہ حکومت کو مدعو کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان اس دعوت کو قبول بھی کر لیں تو وہ بیرون ملک جانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، تاہم یہ مثبت بات ہے کہ ایک اسلامی ملک اس معاملے میں دلچسپی لے رہا ہے کہ عمران خان کو جیل سے رہائی ملنی چاہیے