
لیبیا کے سابق آمر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی لیبیا میں ایک مسلح حملے میں ہلاک ہو گئے۔ لیبیائی حکام اور مقامی میڈیا کے مطابق 53 سالہ سیف الاسلام کو نامعلوم مسلح افراد نے ان کی رہائش گاہ پر فائرنگ کر کے قتل کیا۔
سیف الاسلام قذافی کے وکیل خالد الزیدی اور ان کے سیاسی مشیر عبداللہ عثمان نے منگل کو سوشل میڈیا پر الگ الگ بیانات کے ذریعے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی، تاہم واقعے کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
لیبیائی میڈیا ادارے فواصل میڈیا کے مطابق عبداللہ عثمان کا کہنا ہے کہ چار مسلح نقاب پوش افراد نے دارالحکومت طرابلس سے تقریباً 136 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع شہر زنتان میں سیف الاسلام قذافی کے گھر پر حملہ کیا اور انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا۔
سیف الاسلام قذافی کی سیاسی ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے کارروائی سے قبل گھر کے سی سی ٹی وی کیمرے بند کر دیے تاکہ شواہد مٹائے جا سکیں، جبکہ بیان کے مطابق سیف الاسلام نے حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت بھی کی۔
واقعے کے بعد طرابلس میں قائم ہائی اسٹیٹ کونسل کے سابق سربراہ خالد المشری نے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔
واضح رہے کہ اگرچہ سیف الاسلام قذافی کسی سرکاری منصب پر فائز نہیں تھے، تاہم 2000 سے 2011 کے دوران انہیں اپنے والد معمر قذافی کا جانشین اور اقتدار کا اہم مرکز تصور کیا جاتا تھا۔
یاد رہے کہ سابق لیبیائی حکمران معمر قذافی 2011 میں اقتدار کے خاتمے کے بعد باغیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ سیف الاسلام قذافی کو بھی 2011 میں فرار کی کوشش کے دوران زنتان سے گرفتار کر کے قید کیا گیا تھا، تاہم 2017 میں عام معافی کے تحت رہا کر دیا گیا، جس کے بعد وہ زنتان میں ہی مقیم تھے۔