بنگلہ دیش میں الیکشن ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی

33

ڈھاکا: بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے دو روز قبل پولیس نے ملک بھر میں سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات مکمل کرلیے ہیں، جہاں ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کے انسپکٹر جنرل آف پولیس بہارُال عالم نے منگل کے روز ڈھاکا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے 42 ہزار پولنگ اسٹیشنز میں سے 24 ہزار سے زائد کو ہائی رسک یا درمیانے درجے کا حساس قرار دیا گیا ہے، جو کہ مجموعی تعداد کا نصف سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض پولنگ مراکز دور دراز علاقوں میں واقع ہیں جہاں امیدواروں اور ان کے حامیوں کے درمیان سخت مقابلہ اور کشیدگی پائی جاتی ہے، جس کے باعث تشدد، بدامنی یا بیلٹ پیپرز میں رد و بدل جیسے خدشات موجود ہیں۔

انسپکٹر جنرل کے مطابق 2024 کے سیاسی احتجاج کے دوران لوٹے گئے 1,300 پولیس ہتھیار تاحال برآمد نہیں ہو سکے، جس سے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

بہارُال عالم نے کہا، “ہم اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے ایک ہزار فیصد پُراعتماد ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ ہائی رسک اور درمیانے درجے کے حساس پولنگ اسٹیشنز پر پہلی مرتبہ پولیس اہلکار باڈی کیمرے پہن کر گشت کریں گے تاکہ شفافیت اور نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق 11 دسمبر سے 9 فروری تک جاری انتخابی مہم کے دوران سیاسی جھڑپوں میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ’عین و سلیش کیندرا‘ کے مطابق اگست 2024 سے دسمبر 2025 کے درمیان سیاسی تشدد کے مختلف واقعات میں 158 افراد جان سے گئے جبکہ 7 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

ملک میں سیکیورٹی کی یہ سخت صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکام پر شفاف اور پُرامن انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

مزید خبریں

آپ کی راۓ