کیا ٹرمپ اب جنگ کی طرف نہیں جائینگے؟

26

معروف برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے کیونکہ وہ یہ سمجھ چکے ہیں کہ یہ جنگ شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیوں اور اشتعال انگیز بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اپنی پسپائی کو مضبوط مؤقف کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دی اکانومسٹ نے لکھا کہ ٹرمپ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ کسی نئی جنگ کی صورت میں عالمی منڈیوں میں شدید خوف و ہراس پھیل سکتا ہے اور ’’سنہری دور‘‘ کے اپنے دعووں کے بعد وہ سیاسی طور پر خود کو مضحکہ خیز بنا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ سے متعلق تین بڑے اہداف—خطے کو زیادہ محفوظ اور خوشحال بنانا، ایرانی حکومت کا خاتمہ، اور ایران کو مستقل طور پر جوہری طاقت بننے سے روکنا—تاحال بڑی حد تک حاصل نہیں ہو سکے۔

دوسری جانب رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس بھی کشیدگی کم کرنے کی وجوہات موجود ہیں، کیونکہ اس کی قیادت مسلسل دباؤ اور خطرات کا سامنا کر رہی ہے جبکہ توانائی اور نقل و حمل کے شعبوں کو پہنچنے والا نقصان ملک کے انتظامی ڈھانچے کو متاثر کر سکتا ہے۔

دی اکانومسٹ کے مطابق تہران پابندیوں کے خاتمے اور معاشی بحالی کے لیے بھی کسی ممکنہ سفارتی راستے میں دلچسپی رکھتا ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ