سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب سے اپیل

8

رپورٹ: سکندر اعظم

 تحقیقی رپورٹ۔ موضوع

بہاولپور لال سہانرا نیشنل پارک میں مبینہ بدعنوانی، غیر قانونی لکڑی کی چوری اور سابق ملزمان کی دوبارہ تعیناتی کے

خلاف فوری کارروائی کی درخواست
سال 2024 میں لال سہانرا نیشنل پارک میں مبینہ غیر قانونی درختوں کی کٹائی، سرکاری لکڑی کی خرد برد اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر رینج فاریسٹ آفیسر ممتاز سومرو، راؤ سہیل انور، سجاد عباسی (فاریسٹ گارڈ)، مستحسن علی (بلاک آفیسر) اور نوید اختر (فاریسٹ گارڈ) سمیت دیگر افراد کے خلاف محکمانہ انکوائریاں ہوئیں اور اینٹی کرپشن میں مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ بعد ازاں معزز وزیر جنگلات محترمہ مریم اورنگزیب صاحبہ کی ہدایات پر ان افراد کو لال سہانرا نیشنل پارک سے ہٹا دیا گیا تھا اور واضح ہدایت دی گئی تھی کہ انہیں دوبارہ لال سہانرا میں تعینات نہ کیا جائے۔
انتہائی افسوس کے ساتھ عرض ہے کہ مذکورہ افراد کو دوبارہ لال سہانرا نیشنل پارک میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ معلوم کیا جانا ضروری ہے کہ انہیں کس اتھارٹی اور کن احکامات کے تحت دوبارہ تعینات کیا گیا، جبکہ ان کے خلاف انکوائریاں اور اینٹی کرپشن کا مقدمہ موجود ہے۔
مزید برآں، آج کڈوالہ کے مقام پر، جنگل کے ساتھ واقع ایک آرا مشین، جو ممتاز عرف "مارو” سے منسوب بتائی جاتی ہے، پر محکمانہ کارروائی کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق وہاں تقریباً 400 سے 500 من سرکاری لکڑی موجود تھی، تاہم کارروائی کے دوران صرف ایک ٹرالی لکڑی قبضہ میں لے کر ڈپو منتقل کی گئی، جبکہ مبینہ طور پر تقریباً 200 سے 250 من مزید لکڑی موقع پر موجود تھی۔ مزید یہ بھی اطلاعات ہیں کہ باقی لکڑی کو مبینہ طور پر تقریباً چار لاکھ روپے کے عوض موقع پر ہی چھوڑ دیا گیا اور متعلقہ افراد کو اسے غائب کرنے کا موقع دیا گیا۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ سرکاری املاک میں خرد برد، بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور محکمانہ ملی بھگت کا نہایت سنگین معاملہ ہے۔
یہ تحقیقات کی جائیں کہ مذکورہ افسران و اہلکاروں کو کن احکامات اور کس اتھارٹی کی منظوری سے دوبارہ لال سہانرا نیشنل پارک میں تعینات کیا گیا۔
2۔ تحقیقات مکمل ہونے تک ممتاز سومرو، راؤ سہیل انور، سجاد عباسی، مستحسن علی اور نوید اختر کو فوری طور پر لال سہانرا نیشنل پارک سے ہٹا کر کسی دوسرے مقام پر اٹیچ کیا جائے تاکہ آزادانہ اور شفاف انکوائری ممکن ہو سکے۔
3۔ کڈوالہ میں موجود آرا مشین، وہاں موجود تمام لکڑی، برآمد شدہ لکڑی، مبینہ طور پر موقع پر چھوڑی گئی لکڑی، اور چار لاکھ روپے کی مبینہ رشوت کے الزامات کی لاہور سے ایک اعلیٰ سطحی، آزاد اور غیر جانبدار انکوائری ٹیم کے ذریعے مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔
4۔ اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی افسر یا اہلکار کی غفلت، بدعنوانی، ملی بھگت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا تعین ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز محکمانہ اور

قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس انتہائی سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی تاکہ سرکاری جنگلات، قومی اثاثوں اور محکمانہ ساکھ کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبریں

آپ کی راۓ