
ایران کے مطالبے پر امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کا مقام تبدیل کرتے ہوئے انہیں عمان منتقل کر دیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے نتیجے میں کشیدگی میں وقتی کمی تو آئی ہے، تاہم خطے میں جنگ کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات صرف ایران کے ایٹمی پروگرام تک محدود ہوں گے، جبکہ بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی امور پر بات چیت نہیں کی جائے گی۔ ایرانی مؤقف کے مطابق ان موضوعات پر مذاکرات ایران کے لیے ایک سرخ لکیر ہیں۔ حکام نے بتایا کہ مذاکرات اسی ہفتے عمان میں براہِ راست متوقع ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ پہلے امریکا کے ساتھ بات چیت کو مستحکم کیا جائے، اس کے بعد ہی پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کو شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں امریکا نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کو بھی مذاکراتی وفد کا حصہ بنایا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں ایک محدود مگر اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ علاقائی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کئی ممالک کے وزراء کی شرکت متوقع تھی، تاہم تہران نے بات چیت کو امریکا کے ساتھ دوطرفہ رکھنے پر زور دیا۔
دوسری جانب واشنگٹن نے دباؤ اور مذاکرات پر مبنی دوہری حکمتِ عملی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اگرچہ فوری طور پر جنگ کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے، تاہم صورتحال اب بھی نازک ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اس وقت سفارت کاری آگے بڑھ رہی ہے، جنگ وقتی طور پر مؤخر ہو چکی ہے اور مذاکرات کی ایک کھڑکی کھلی ہوئی ہے۔ یہ کھڑکی کتنی دیر کھلی رہتی ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریم ورک کے بعد اصل نکات پر کتنی سنجیدگی اور عملی پیش رفت ہوتی ہے۔