
اسلام آباد: فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر نے سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں صحت اور سہولیات سے متعلق رپورٹ جمع کرا دی۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی 85 فیصد متاثر ہو چکی ہے اور وہ صرف 15 فیصد دیکھ پا رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان نے طبی سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ماہر آنکھوں کے ڈاکٹر تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اکتوبر 2025 تک ان کی نظر 6/6 تھی، تاہم بعد ازاں دھندلا دکھائی دینا شروع ہوا جو وقت کے ساتھ بڑھتا گیا۔ تین ماہ تک آنکھوں کے قطروں سے علاج کیا گیا مگر افاقہ نہ ہوا۔
رپورٹ میں جیل میں سیکیورٹی اور خوراک کو تسلی بخش قرار دیا گیا تاہم طبی سہولیات کو ناکافی بتایا گیا۔ سیل میں مچھروں کی موجودگی، ریفریجریٹر کی فراہمی اور کتابوں تک رسائی کی بھی سفارش کی گئی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان ریاستی تحویل میں ہیں اور انہیں دیگر قیدیوں کی طرح طبی سہولیات ملنی چاہئیں، تاہم غیر معمولی رعایت نہیں دی جائے گی۔ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ ماہر ڈاکٹر تک رسائی دی جائے گی۔ عدالت نے 16 فروری سے قبل اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی