
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکرات دوسرے روز میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں پاکستان اس پورے عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
مذاکرات کے آغاز سے قبل دونوں ممالک کے وفود نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی مجموعی صورتحال، عالمی امن اور باہمی تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی صدر نے اس موقع پر کہا کہ “پاکستان میں موجود ہمارا وفد پورے دل سے ایرانی مفادات کا دفاع کر رہا ہے۔”
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 1979 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست اعلیٰ سطحی مذاکرات ہو رہے ہیں۔ امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے پاس ہے۔
اسلام آباد آمد پر پاکستانی قیادت نے مہمان وفود کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ چیف آف آرمی اسٹاف عاصم منیر نے بھی مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔
امریکی وفد میں خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، جبکہ ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شریک ہیں۔
مذاکرات کو خطے میں کشیدگی میں کمی اور ممکنہ سفارتی پیش رفت کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اس ملاقات کے نتائج پر مرکوز ہیں