خبر نہیں، بیانیہ ہم سوچ کیوں نہیں رہے؟

40

خبر نہیں، بیانیہ

ہم سوچ کیوں نہیں رہے؟

پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں خبریں نہیں ملتیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں سوچنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ صبح سے شام تک ٹی وی اسکرین، موبائل فون اور سوشل میڈیا ہمیں مصروف رکھتے ہیں، مگر باخبر کم اور متاثر زیادہ کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم حالات کو دیکھ رہے ہیں، جبکہ درحقیقت حالات ہمیں ایک خاص زاویے سے دکھائے جا رہے ہوتے ہیں۔

خبر اور بیانیے کا فرق یہی ہے۔

خبر بتاتی ہے کہ کیا ہوا،

بیانیہ یہ طے کرتا ہے کہ ہمیں کیا محسوس کرنا چاہیے۔

یہی وجہ ہے کہ ایک ہی واقعہ کہیں “عوامی آواز” کہلاتا ہے اور کہیں “انتشار”۔ کہیں سوال اٹھانا جمہوریت بن جاتا ہے اور کہیں یہی سوال خطرہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ واقعہ وہی رہتا ہے، صرف الفاظ بدلتے ہیں—اور الفاظ کے بدلتے ہی ذہن بھی بدل جاتا ہے۔

پاکستان کے موجودہ حالات میں اس عمل کو نظرانداز کرنا خود فریبی ہے۔ کبھی پورا میڈیا دن رات ایک ہی سیاسی بیان، ایک ہی تنازع یا ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتا رہتا ہے، جبکہ اسی دوران مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور انصاف جیسے مسائل خاموشی سے پس منظر میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ عوام یہ ماننے لگتے ہیں کہ شاید یہی اصل مسئلہ ہے، باقی سب ثانوی۔

یہ اتفاق نہیں، انتخاب ہے۔

میڈیا کسی خلا میں کام نہیں کرتا۔ وہ ریاستی مفادات، اشتہارات، ریٹنگ اور ادارتی دباؤ کے بیچ سانس لیتا ہے۔ اسی لیے کچھ سوال کبھی پوچھے ہی نہیں جاتے اور کچھ آوازیں مستقل نظرانداز کر دی جاتی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جو کچھ نہیں دکھایا جاتا، وہ بھی ایک واضح پیغام ہوتا ہے۔ خاموشی کبھی غیر جانبدار نہیں ہوتی۔

ڈیجیٹل میڈیا نے بیانیے کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا الگورتھم ہمیں وہی دکھاتا ہے جو ہم پہلے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یوں ہم اپنی ہی سوچ کے قیدی بن جاتے ہیں۔ اختلاف سننے کی صلاحیت ختم ہوتی جاتی ہے اور مختلف رائے دشمنی لگنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مکالمہ کم اور شور زیادہ ہے۔

بیانیہ ہمیشہ جذبات پر حملہ کرتا ہے۔ خوف، غصہ، نفرت یا ہیرو پرستی—یہ سب اس کے پسندیدہ ہتھیار ہیں۔ جذباتی انسان سوال نہیں کرتا، وہ صرف ردعمل دیتا ہے۔ اور جو قوم ردعمل پر جینے لگے، وہ فیصلے خود نہیں کر پاتی۔

اصل خطرہ یہی ہے۔

اس ماحول میں باشعور شہری کی پہچان یہ ہے کہ وہ ہر خبر پر رک کر سوچے۔ وہ یہ سوال کرے کہ اس خبر میں کیا کہا گیا ہے اور کیا چھوڑ دیا گیا ہے۔ وہ یہ بھی دیکھے کہ اس خبر سے اس کے اندر کون سا جذبہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ اگر خبر آپ کو سوچنے کے بجائے فوراً غصہ دلا دے، تو سمجھ لیں کہ آپ کو اطلاع نہیں، سمت دی جا رہی ہے۔

میڈیا نہ مکمل سچ ہے، نہ مکمل جھوٹ۔ وہ آئینہ بھی ہے اور رنگ بھی۔ مسئلہ خبر کی صداقت سے زیادہ اس تشریح کا ہے جو ہمیں قبول کروائی جا رہی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ خبر درست ہے یا غلط، اصل سوال یہ ہے کہ ہمیں کس طرف سوچنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

جب تک ہم یہ سوال نہیں پوچھیں گے، ہم باخبر نہیں ہوں گے—ہم صرف ہجوم کا حصہ رہیں گے۔ اور باشعور معاشرے شور سے نہیں، سوچ سے بنتے ہیں۔

آپ کی راۓ