بھیک یا خود انحصاری؟

17

پاکستان کو قرض نہیں، ادارے بنانے کی ضرورت ہے
پاکستان کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے وسائل کو اداروں میں تبدیل کرنے کا ہنر سیکھا ہی نہیں۔ اسی لیے ہم بار بار کبھی آئی ایم ایف، کبھی دوست ممالک اور کبھی عالمی مالیاتی اداروں کے دروازے کھٹکھٹاتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایٹمی، زرعی، معدنی اور 60 فیصد نوجوان آبادی والا ملک واقعی ہمیشہ بھیک مانگنے پر مجبور رہ سکتا ہے؟
مسئلہ نیت یا صلاحیت کا نہیں، سوچ کا ہے۔
دنیا کی ترقی یافتہ ریاستیں امداد پر نہیں، ریونیو جنریشن پر چلتی ہیں۔ وہ حکومتیں نہیں چلاتیں، ادارے بناتی ہیں۔ اور پھر انہی اداروں کو فروخت، لیز، یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے قومی آمدن کا ذریعہ بناتی ہیں۔
حال ہی میں پاکستان سپر لیگ (PSL) کی دو نئی ٹیموں کی بولی اس حقیقت کی ایک زندہ مثال ہے۔ ایک ٹیم تقریباً 175 ارب روپے میں اور دوسری 185 ارب روپے میں فروخت ہوئی۔ یوں صرف دو ٹیموں کی مجموعی مالیت تقریباً 360 ارب روپے بنتی ہے، جو ڈالر میں دیکھا جائے تو تقریباً 1.2 سے 1.3 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ یہ صرف ایک کھیل کا برانڈ ہے، وہ بھی چند سال پرانا۔
یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے:
اگر ایک اسپورٹس لیگ اتنی آمدن پیدا کر سکتی ہے، تو ریاست کیوں نہیں؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اداروں کو بوجھ سمجھ لیا ہے، جبکہ دنیا انہیں سرمایہ سمجھتی ہے۔ امریکہ کی مثال سامنے ہے۔ وہاں صرف پانچ سے سات بڑی کمپنیاں—جیسے Apple، Microsoft، Amazon، (Google)، Nvidia اور Meta کی مجموعی مالیت اتنی زیادہ ہے کہ وہ کئی ممالک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ امریکی اسٹاک ایکسچینج میں سب سے زیادہ سرمایہ انہی چند کمپنیوں میں لگا ہوا ہے۔
یہ کمپنیاں حکومت نہیں چلاتیں،
مگر حکومتوں کو چلنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔
پاکستان کے پاس بھی ایسے بے شمار شعبے موجود ہیں:
توانائی
معدنیات
ریلویز
بندرگاہیں
ایئرپورٹس
کھیل، میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز
مسئلہ یہ نہیں کہ یہ ادارے نقصان میں ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ انہیں صحیح بزنس ماڈل کے تحت نہیں چلایا جا رہا۔ اگر حکومت چند بڑے قومی اداروں کو شفاف طریقے سے ری اسٹرکچر کر کے، جزوی فروخت یا شیئر ہولڈنگ کے ذریعے مارکیٹ میں لے آئے تو پانچ، سات ارب ڈالر اکٹھا کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہم قرض کیوں لیتے ہیں،
اصل سوال یہ ہے کہ ہم کماتے کیوں نہیں؟
جب ریاست اپنے اثاثوں کو زندہ اداروں میں بدل دیتی ہے تو پھر اسے ہر چند ماہ بعد قرض کے لیے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتا۔ خود انحصاری کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا سے کٹ جایا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بات چیت برابری کی بنیاد پر ہو، نہ کہ مجبوری کی بنیاد پر۔
ایک مضبوط حکومت وہ نہیں ہوتی جو زیادہ قرض لے،
ایک مضبوط حکومت وہ ہوتی ہے جو ایسے ادارے بنا دے کہ قرض کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
اگر پاکستان واقعی ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے بھیک مانگنے کی سیاست چھوڑ کر ادارہ سازی کی معیشت اپنانا ہوگی۔ ورنہ ہم ہر سال نئے قرض کے ساتھ وہی پرانی تقریریں سنتے رہیں گے—اور خوشحالی ایک خواب ہی بنی رہے گی۔

مصنف کی مزید تحاریریں

خبر نہیں، بیانیہ ہم سوچ کیوں نہیں رہے؟ پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں خبریں نہیں ملتیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں سوچنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ صبح ...

آپ کی راۓ