پاکستان کا آئی ایم ایف سے نجات کا راستہ؟
احسن اقبال وفاقی وزیر
پاکستان کا بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا کسی بدقسمتی، بیرونی سازش یا عارضی عالمی بحران کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ دہائیوں سے جمع ہونے والی گہری سیاسی اور معاشی ساختی کمزوریوں کا فطری انجام ہے۔
ہماری معیشت تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے مطابق اپنی پیداواری اور برآمدی صلاحیت بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ ہم جتنا برآمد کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ درآمد کرتے ہیں، جتنا کماتے ہیں اس سے زیادہ قرض لیتے ہیں، اور جدید ریاست کے تقاضوں کے مطابق آمدن اکٹھی کرنے میں بری طرح پیچھے ہیں۔ اس لیے آئی ایم ایف پر انحصار پاکستان پر مسلط نہیں کیا گیا بلکہ یہ ہمارے اپنے نظام کی پیداوار ہے۔
یہ تشخیص شاید ناگوار محسوس ہو، مگر درحقیقت یہی ہماری نجات کا راستہ بھی ہے۔ اگر مسئلہ ساختی ہے تو اس کا حل بھی ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ حقیقی معاشی خودمختاری بحرانوں کے عارضی انتظام یا ایک کے بعد دوسرے آئی ایم ایف پروگرام سے نہیں آئے گی، بلکہ پاکستان کی پیداواری بنیاد کو وسعت دینے سے آئے گی۔ استحکام وقتی طور پر علامات کا علاج کر سکتا ہے، مگر اصل شفا مرض کی جڑ پر ضرب لگانے سے ہی ممکن ہے۔ سادہ الفاظ میں، پاکستان کو اپنی پیداوار، مسابقت اور برآمدی صلاحیت بڑھانا ہوگی۔ اس کے سوا کوئی پائیدار راستہ موجود نہیں۔
یہی وہ منطق ہے جس پر اُڑان پاکستان (URAAN Pakistan) اور اس کا قومی معاشی تبدیلی منصوبہ استوار ہے۔ اس کا مقصد قلیل مدتی ریلیف نہیں بلکہ طویل المدتی مضبوطی اور خود انحصاری ہے۔
آئی ایم ایف سے نکلنے پر جاری بحث ایک غلط دو رخی سوچ میں پھنسی ہوئی ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مالیاتی سختی ہی واحد ذمہ دارانہ راستہ ہے۔ مالی نظم و ضبط ضروری ہے، مگر اسے معاشی گھٹن سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ سخت کفایت شعاری وقتی طور پر خسارے کم کر سکتی ہے، مگر یہ معیشت کی آمدن، برآمدات اور محصولات پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتی۔ طویل المدتی سختی بالآخر انہی شعبوں کو کمزور کر دیتی ہے جو پیداوار اور ترقی کا اصل محرک ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس ترقیاتی اخراجات مستقبل کی مالی پائیداری کی بنیاد رکھتے ہیں۔ انفراسٹرکچر، توانائی، پانی، ڈیجیٹل رابطہ کاری، تعلیم، مہارتوں اور تحقیق میں اسٹریٹجک سرکاری سرمایہ کاری پیداوار بڑھاتی ہے، نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرتی ہے اور ٹیکس بیس کو وسعت دیتی ہے۔ ترقیاتی اخراجات مالی نظم و ضبط کے دشمن نہیں بلکہ اس کی شرطِ اول ہیں۔ ان کے بغیر پاکستان کم پیداواری، کم برآمدی اور کم آمدنی کے چکر میں پھنسا رہتا ہے، جو بیرونی انحصار کو جنم دیتا ہے۔
اعداد و شمار خود بولتے ہیں۔ وفاقی حکومت کے کل جاری اخراجات 16 ہزار 286 ارب روپے میں سے تقریباً نصف، یعنی 8 ہزار 207 ارب روپے (49 فیصد) صرف قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ دفاع پر تقریباً 16 فیصد، جبکہ گرانٹس اور ٹرانسفرز (بشمول بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام) پر مزید 12 فیصد خرچ ہوتا ہے۔ پوری وفاقی حکومت محض 6 فیصد وسائل پر چل رہی ہے۔ وفاقی ترقیاتی اخراجات (پی ایس ڈی پی) 2018 میں جی ڈی پی کے 2.8 فیصد سے گھٹ کر 2024 میں صرف 0.9 فیصد رہ گئے ہیں۔ یہ وہ معیشت نہیں جو اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کر رہی ہو، بلکہ یہ وہ معیشت ہے جو اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری نہیں کر رہی۔
پاکستان کے ترقیاتی ماڈل کی ایک بنیادی کمزوری یہ رہی ہے کہ ہم نے جسمانی انفراسٹرکچر کو انسانی ترقی پر ترجیح دی۔ ماضی میں سیاسی فائدے کے لیے نمایاں منصوبے تو بنائے گئے، مگر وہ سماجی شعبے نظرانداز ہوتے رہے جو طویل المدتی پیداواری صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔
63 فیصد خواندگی، تقریباً 40 فیصد بچوں کا جسمانی نشوونما میں پیچھے رہ جانا، 2.55 فیصد آبادی میں اضافہ اور خواتین کی محنت کش قوت میں صرف 23 فیصد شمولیت کے ساتھ کوئی بھی ملک پائیدار خوشحالی کا خواب نہیں دیکھ سکتا۔ یہ محض سماجی اشاریے نہیں بلکہ سخت معاشی رکاوٹیں ہیں۔ اُڑان پاکستان کا 5Es فریم ورک انہی کمزوریوں کو ہدف بناتا ہے۔
18ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم، صحت اور سماجی ترقی بنیادی طور پر صوبوں کی ذمہ داری ہے، مگر کمزور مقامی حکمرانی اور بااختیار ضلعی نظام کی عدم موجودگی نے نتائج کو متاثر کیا ہے۔ انسانی سرمائے کی اسٹریٹجک اہمیت ایک مضبوط ضلعی نظام اور مربوط قومی کوشش کی متقاضی ہے۔ اس وقت ترقیاتی منصوبہ بندی بکھری ہوئی، حد سے زیادہ صوبائی سطح پر مرکوز اور وفاقی و صوبائی ترجیحات سے غیر ہم آہنگ ہے۔
اسی لیے اُڑان پاکستان قومی اقتصادی کونسل (NEC) کو دوبارہ فعال کرنے کی تجویز دیتا ہے تاکہ اسے وفاق اور صوبوں کے درمیان حکمتِ عملی، بجٹ اور اصلاحات میں ہم آہنگی کا اعلیٰ آئینی فورم بنایا جا سکے۔ انسانی ترقی کو صوبائی ضمنی مسئلہ نہیں بلکہ قومی معاشی ترجیح بنانا ہوگا۔
پاکستان کا بھاری قرضہ دراصل کمزور محصولات اور برآمدات کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے ٹیکس اصلاحات حکومت کے ایجنڈے کا مرکز ہیں۔ ایف بی آر کی تنظیمِ نو، ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہتر نفاذ کے ابتدائی نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کی حدود کے باعث ابتدا میں موجود ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھا، جس سے عدم توازن پیدا ہوا۔
اب اگلا اور فوری مرحلہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے تاکہ غیر ٹیکس شدہ شعبوں، آمدنیوں اور لین دین کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب مالی سال 2025 میں بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گیا ہے، جو پچھلے سال 8.8 فیصد تھا۔ اس پیش رفت کو اب سیاسی عزم اور تسلسل کے ذریعے مستقل بنانا ہوگا۔
ساتھ ہی کاروباری سہولت کاری کی اصلاحات جاری ہیں: رجسٹریشن اور لائسنسنگ کی ڈیجیٹلائزیشن، سنگل ونڈو کسٹمز، ضوابط میں سادگی اور تنازعات کے خودکار حل۔ اُڑان پاکستان کا مقصد ایک حقیقی سرمایہ کار دوست ماحول پیدا کرنا ہے۔
محض استحکام پاکستان کو آئی ایم ایف سے نجات نہیں دلا سکتا۔ پائیدار نجات کے لیے برآمدات پر مبنی ترقی ناگزیر ہے۔ پاکستان کے معاشی اتار چڑھاؤ کی جڑ یہ ہے کہ ہم ڈالر خرچ تو بہت کرتے ہیں مگر کماتے کم ہیں۔
اُڑان پاکستان کا ہدف 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت کی راہ پر ڈالنا ہے۔ اس کے لیے درآمدی متبادل سے نکل کر عالمی مسابقت کی طرف جانا ہوگا۔
یہ حکمتِ عملی تین بڑے محاذوں پر مشتمل ہے:
اول، بنیادی شعبوں کی تبدیلی؛
دوم، عالمی منڈیوں کے لیے انسانی سرمایہ؛
سوم، نظرانداز شدہ قومی وسائل کا استعمال۔
برآمدی ترقی کے لیے آٹھ ترجیحی شعبے متعین کیے گئے ہیں، جن میں صنعت، زراعت، جدید خدمات، آئی ٹی، معدنیات، افرادی قوت، بلیو اکانومی اور تخلیقی صنعتیں شامل ہیں۔
معاشی تبدیلی پرانے انتظامی ڈھانچوں سے ممکن نہیں۔ اسی لیے وزارتوں کی تنظیمِ نو، معاشی سفارت کاری اور سول سروس اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔
پاکستان کا اصل مسئلہ خیالات کی کمی نہیں بلکہ سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا ہے۔ کامیاب ممالک کا تجربہ بتاتا ہے کہ تبدیلی ایک 15 سالہ مسلسل سفر ہوتی ہے۔
سبق واضح ہے: آئی ایم ایف سے پائیدار نجات ترقی کو دبانے سے نہیں بلکہ برآمدات بڑھانے، پیداوار میں اضافے، وسائل متحرک کرنے اور ادارہ جاتی اصلاحات سے حاصل ہوتی ہے۔
آئی ایم ایف سے نکلنا منزل نہیں بلکہ ایک سنگِ میل ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان 2047 میں کہاں کھڑا ہوگا۔ اصل مقابلہ مارکۂ ترقی ہے — پیداوار، جدت اور خوشحالی کی دوڑ۔
معاشی دباؤ کے ذریعے حاصل کی گئی نجات عارضی ہوگی، جبکہ پیداوار اور برآمدات کے ذریعے حاصل کی گئی نجات پائیدار۔ یہی مشکل مگر واحد قابلِ اعتبار راستہ ہے۔
نوٹ: یہ کالم سینئر سیاستدان و وفاقی وزیر احسن اقبال نے دی نیوز کے لئے لکھا ہے جس کا اردو ترجمہ کرکے جیوقائد نے اپنی ویب سائٹ پے لگایا ہے۔
اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے یوم یکجہتی کشمیر پر وزیراعظم عمران خان سے 12 سوالات پوچھ لی...