ہم آہنگی کے فقدان کا ازالہ

25

سینئر سیاست دان موجودہ وفاقی وزیر جناب احسن اقبال کی تحریر جو کہ “دی نیوز” میں پبلش ہوئی۔ کالم کا اردو ترجمہ قارئین کے حاضر خدمت ہے۔

موسمیاتی جھٹکوں، سپلائی چین میں تعطل اور بڑھتے ہوئے عالمی مقابلے کے اس دور میں ترقی کی کامیابی کا انحصار اب صرف اس بات پر نہیں رہا کہ کوئی ملک کتنا خرچ کرتا ہے، بلکہ اس پر ہے کہ وہ اپنے محدود وسائل کو کس حد تک مؤثر انداز میں ہم آہنگ اور منظم کرتا ہے۔

دنیا بھر میں ایسے ممالک جن کے پاس مالی گنجائش محدود ہے، وسائل کی فراوانی کے بجائے پالیسی ہم آہنگی کے ذریعے غیر معمولی نتائج حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس وہ ممالک جو ہم آہنگی قائم کرنے میں ناکام رہتے ہیں — خواہ وہ بھاری اخراجات ہی کیوں نہ کریں — دہرے منصوبوں، نااہلی اور عوامی مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج ترقی کا معاملہ حجم سے زیادہ رفتار، سمت اور ہم آہنگی سے جڑا ہوا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ چیلنج خاص طور پر فوری نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ مالی گنجائش تیزی سے سکڑ چکی ہے اور ترقیاتی وسائل قرضوں کی ادائیگی، معاشی استحکام کے تقاضوں اور بڑھتی ہوئی عوامی توقعات کے دباؤ میں ہیں۔ ایسے ماحول میں ریاست کے لیے سب سے زیادہ فائدہ دینے والی اصلاح ہم آہنگی ہے۔

پاکستان اب بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ذریعے سالانہ تقریباً 4 کھرب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ وسائل لامحدود ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہر ترقیاتی روپیہ قومی ہم آہنگی کے ذریعے زیادہ اثر پیدا کر رہا ہے یا انتظامی بکھراؤ کی نذر ہو رہا ہے۔

مربوط کمانڈ اور کوآرڈینیشن نظام کے بغیر، بھاری اخراجات کے باوجود نتائج غیر متوازن رہتے ہیں، منصوبے دہراتے ہیں اور بڑے پیمانے پر مواقع ضائع ہو جاتے ہیں — ایسے وقت میں جب پاکستان کسی بھی قسم کی نااہلی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

آج پاکستان ایک فیصلہ کن امتحان سے گزر رہا ہے: کیا وہ کئی حکومتوں کے ہوتے ہوئے بھی ایک معیشت کے طور پر کام کر سکتا ہے؟ حالیہ مالی حقائق نے اس امتحان کو مزید سخت بنا دیا ہے۔ برسوں کے معاشی دباؤ، بار بار کے استحکامی عمل اور بیرونی جھٹکوں کے بعد مالی گنجائش شدید حد تک محدود ہو چکی ہے۔ وفاقی حکومت کا ترقیاتی بجٹ 2018 میں جی ڈی پی کے 2.8 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں تقریباً 0.9 فیصد رہ گیا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی، مہنگائی پر قابو اور معاشی استحکام نے مشکل مگر ناگزیر فیصلے مسلط کر دیے ہیں۔

الگ تھلگ دیکھا جائے تو یہ کمی یوں محسوس ہوتی ہے جیسے پاکستان کی ترقیاتی کوششیں ختم ہو گئی ہوں، مگر یہ تاثر گمراہ کن ہے۔ جب مجموعی طور پر پاکستان کی ترقیاتی سرگرمیوں کو دیکھا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ آج پاکستان سالانہ تقریباً 4 کھرب روپے ترقی پر خرچ کر رہا ہے — جن میں سے تقریباً 1 کھرب روپے وفاقی پی ایس ڈی پی اور قریب 3 کھرب روپے صوبائی اے ڈی پیز کے ذریعے خرچ ہو رہے ہیں۔ اس کا موازنہ 2017-18 کے 2,113 ارب روپے کے مجموعی ترقیاتی اخراجات سے کیا جائے تو فرق واضح ہے، جب وفاق اور صوبوں کا حصہ تقریباً برابر تھا۔

ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں قومی ترقیاتی اخراجات میں وفاقی حکومت کا حصہ تقریباً 50 فیصد سے کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ صوبائی حصہ 50 فیصد سے بڑھ کر 75 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

یہ تبدیلی مالیاتی وفاقیت (Fiscal Federalism) کے ارتقائی ڈھانچے کی عکاس ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو قابل تقسیم محاصل کا تقریباً 60 فیصد ملتا ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے محدود حالات کے باوجود ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی نے صوبائی ملکیت اور جمہوری جوابدہی کو مضبوط کیا ہے، لیکن ہم آہنگی کے بغیر یہ عمل اپنی قیمت بھی وصول کرتا ہے۔

یہی حقیقت ہم آہنگی کو پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنا دیتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان ترقی پر کافی خرچ کر رہا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اتنی بڑی قومی سرمایہ کاری متناسب معاشی تبدیلی، علاقائی تفاوت میں کمی اور پائیدار ترقی کیوں پیدا نہیں کر پا رہی۔ اس کا جواب ایک بنیادی ساختی کمزوری میں پوشیدہ ہے: ہماری ترقیاتی کوششوں میں ربط اور یکجہتی کی کمی۔

پاکستان آج 4 کھرب روپے سالانہ کی ترقیاتی سرگرمی بغیر کسی مکمل مربوط کمانڈ اور کوآرڈینیشن نظام کے چلا رہا ہے۔ بڑے منصوبے تصور سے عمل درآمد تک پہنچتے پہنچتے اپنی رفتار کھو دیتے ہیں۔ انفراسٹرکچر کو مربوط معاشی راہداریوں کے بجائے الگ تھلگ منصوبوں کے طور پر بنایا جاتا ہے۔ برآمدی زونز بغیر ہم آہنگ لاجسٹکس، مہارتوں، توانائی قیمتوں اور تجارتی سہولت کاری کے وجود میں آتے ہیں۔ سماجی نتائج علاقوں کے درمیان شدید تفاوت کا شکار ہیں۔

یہ بکھراؤ خاموش مگر بھاری معاشی قیمت وصول کرتا ہے: کم رفتار ترقی، سرمایہ کا غیر مؤثر استعمال، کم پیداواری صلاحیت اور عوامی توقعات کی عدم تکمیل۔ شہری ان نقصانات کو پالیسی ناکامی کے طور پر نہیں بلکہ رکے ہوئے مواقع کے طور پر محسوس کرتے ہیں۔

منقسم منصوبہ بندی کی ایک بنیادی خامی یہ ہے کہ یہ اس حقیقت کو نظرانداز کرتی ہے کہ معیشتیں دراصل کیسے کام کرتی ہیں۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری، غذائی عدم تحفظ یا ڈیجیٹل مواقع کو صوبائی سرحدوں کے اندر محدود ہو کر محسوس نہیں کرتے۔ کاروبار صوبوں سے بالاتر ہو کر چلتے ہیں۔ مزدور اندرونِ ملک نقل مکانی کرتے ہیں۔ سپلائی چین تسلسل مانگتی ہے۔ برآمدی مسابقت ہم آہنگی پر منحصر ہوتی ہے۔

ہم آہنگی کے بغیر وفاق پیمانے (Scale) کا فائدہ حاصل نہیں کر سکتا، اور پیمانے کے بغیر عوامی سرمایہ کاری محدود اور غیر مساوی نتائج دیتی ہے۔ بکھرا ہوا نظام منصوبے تو بنا سکتا ہے، مگر تبدیلی (Transformation) نہیں لا سکتا۔

پاکستان کے آئین نے اس چیلنج کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا۔ آرٹیکل 156 کے تحت قومی اقتصادی کونسل (NEC) کو اقتصادی ہم آہنگی کا اعلیٰ ترین فورم بنایا گیا، جس کا مقصد ملک کی معاشی صورتحال کا جائزہ لینا اور مالی، تجارتی، سماجی اور اقتصادی پالیسیوں پر رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اس کا ہدف واضح ہے: متوازن ترقی، بین الصوبائی تفاوت میں کمی اور قومی ترجیحات پر اتفاق۔

قومی اقتصادی کونسل کبھی بھی محض رسمی ادارہ نہیں تھی۔ اسے اقتصادی وفاقیت کا اعصابی مرکز بنایا گیا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ اس کا کردار کمزور پڑتا گیا۔ منصوبے منظور تو ہوتے ہیں، مگر نتائج کا اجتماعی جائزہ شاذ و نادر ہی لیا جاتا ہے۔ ہم آہنگی پر بات تو ہوتی ہے، مگر اسے منظم انداز میں نافذ نہیں کیا جاتا۔

ایک ساختی عدم توازن پیدا ہو چکا ہے۔ وفاقی حکومت باقاعدگی سے اپنا پی ایس ڈی پی اور سالانہ منصوبہ این ای سی کے سامنے پیش کرتی ہے۔ صوبے بجا طور پر وفاقی ترجیحات کا جائزہ لیتے ہیں۔ لیکن اب کہیں زیادہ بڑے صوبائی ترقیاتی منصوبے اسی شفافیت اور ہم آہنگی کے عزم کے ساتھ این ای سی کے سامنے نہیں آتے۔ اس سے ایک غیر صحت مند رویہ جنم لیتا ہے، جہاں قومی ہم آہنگی یک طرفہ ذمہ داری بن جاتی ہے — گویا “میرا منصوبہ میرا ہے، اور تمہارا (وفاقی پی ایس ڈی پی) قابلِ گفت و شنید ہے۔”

یہ طرزِ فکر اجتماعی ترقیاتی ملکیت کو کمزور کرتا ہے اور بالآخر وفاق کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم نے بجا طور پر صوبوں کو اختیارات دیے، مگر اس کا مقصد کبھی بھی پالیسی کے الگ تھلگ جزیرے بنانا نہیں تھا۔ کامیاب وفاقی نظاموں میں خودمختاری اسی وقت نتائج دیتی ہے جب وہ ہم آہنگی کے ساتھ جڑی ہو۔ مرکز صوبوں کا مائیکرو مینجمنٹ نہیں کرتا، بلکہ قومی ترجیحات، معیار اور نتائج پر ہم آہنگی یقینی بناتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے میدان میں بکھراؤ کی قیمت سب سے زیادہ واضح ہے۔ سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی، غذائی عدم تحفظ اور پانی کی قلت صوبائی سرحدوں کو نہیں مانتے، مگر ان سے نمٹنے کی کوششیں بکھری ہوئی ہیں۔ پاکستان کی موسمیاتی کمزوری ایک متحد ردعمل کی متقاضی ہے جو پانی کے انتظام، زراعت، شہری منصوبہ بندی، آفات سے تحفظ اور توانائی کی منتقلی کو وفاق بھر میں جوڑ سکے۔

پاکستان کا قومی ترقیاتی روڈ میپ — جو 5Es فریم ورک پر مبنی ہے — ایک مربوط وژن فراہم کرتا ہے، مگر صرف وژن نتائج نہیں دیتا۔ 5Es اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب تمام وفاقی اکائیاں انہیں اجتماعی طور پر نافذ کریں۔ 4 کھرب روپے سالانہ کی ترقیاتی سرمایہ کاری کے ہوتے ہوئے بکھراؤ کی قیمت ناقابلِ برداشت ہے۔

لہٰذا قومی اقتصادی کونسل کو منصوبوں کی منظوری دینے والے فورم سے نتائج اور اثرات کا جائزہ لینے والے ادارے میں تبدیل کرنا ہوگا۔ وقتی اجلاسوں کے بجائے مسلسل نگرانی اور ہم آہنگی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ متوازی اخراجات کے بجائے مشترکہ قومی اہداف پر توجہ دینی ہوگی۔

اس کے لیے ٹھوس ادارہ جاتی اصلاحات درکار ہیں۔ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی نے این ای سی سیکریٹریٹ کو مضبوط بنانے کی تجویز دی ہے، جس میں پلاننگ کمیشن کی تکنیکی و تجزیاتی صلاحیت اور حقیقی وقت کے ڈیٹا سسٹمز شامل ہوں۔

این ای سی کو چاہیے کہ وہ وفاقی پی ایس ڈی پی کے ساتھ صوبائی اے ڈی پیز کی باقاعدہ پیشکش لازم قرار دے، برآمدات، آبادی، موسمیاتی تحفظ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، غذائی تحفظ اور صحت جیسے شعبوں میں مشترکہ آؤٹ کم اسکور کارڈز متعارف کرائے، اور وہاں مشترکہ پالیسی فریم ورک تشکیل دے جہاں بکھراؤ قومی نقصان کا باعث بنتا ہے — جبکہ عمل درآمد میں صوبائی لچک برقرار رکھی جائے۔

انتخاب بالکل واضح ہے: یا تو پاکستان کھربوں روپے ٹکڑوں میں خرچ کرتا رہے، یا اپنی وفاقی اکائیوں کو ایک معیشت، ایک سمت اور ایک مشترکہ مستقبل کے تحت ہم آہنگ کرے۔

قومی اقتصادی کونسل آئین کے عین قلب میں موجود ہے۔ اب ضرورت کسی نئے ادارے کی نہیں، بلکہ اس ادارے کو مکمل طور پر فعال کرنے کے سیاسی عزم کی ہے۔ یہی فیصلہ کرے گا کہ پاکستان کی ترقیاتی سرمایہ کاری محض منصوبے بناتی ہے یا واقعی تبدیلی لے کر آتی ہے

مصنف کی مزید تحاریریں

اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے یوم یکجہتی کشمیر پر وزیراعظم عمران خان سے 12 سوالات پوچھ لی...

آپ کی راۓ