مجھے تقریر بڑی مہنگی پڑتی ہے

20

اسلام آباد: سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ انہیں تقریر ہمیشہ بڑی مہنگی پڑتی ہے اور وہ فیصلے دماغ کے بجائے دل سے کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک الوداعی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے انکشاف کیا کہ وزیرِ قانون نے نومبر 2024 میں ان سے رابطہ کر کے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) کی چیئرمین شپ سنبھالنے کی پیشکش کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت این آئی آر سی کو بند کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا، جس پر انہوں نے دو مرتبہ اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کیا، تاہم بعد ازاں اسے ایک چیلنج سمجھتے ہوئے ذمہ داری سنبھالنے پر آمادہ ہوئے۔

جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ انہوں نے اچانک استعفیٰ کیوں دیا؟ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہمیشہ اپنے دل سے فیصلے کرتے ہیں، دماغ سے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی انہیں یہ باور کرایا گیا کہ این آئی آر سی کی چیئرمین شپ بطور ہرجانہ دی گئی ہے، انہوں نے اسی لمحے استعفیٰ دے دیا، کیونکہ وہ کسی قسم کی رعایت یا ذاتی فائدہ قبول کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔

سابق جج نے مزید کہا کہ ان پر جھوٹے الزامات لگانے والوں کا معاملہ وہ اللہ پر چھوڑتے ہیں، کیونکہ اللہ سے بہتر انصاف کرنے والا کوئی نہیں

مزید خبریں

واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کوئی اچانک پیدا ہونے والا تنازع نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی طویل کہانی ہے جو دہائیوں پر محیط ہے۔ اس کہانی میں کھلی جنگ ک...

آپ کی راۓ