بعض کاروباری ادارے ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں: وفاقی وزیر خزانہ

19

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تسلیم کیا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ بعض کاروباری ادارے ملک سے باہر جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کی بنیادی وجوہات ٹیکسوں اور توانائی کی بلند قیمتیں ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کاروباری لاگت کم کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کروا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیرف اصلاحات کے ذریعے پہلی مرتبہ خام مال پر ڈیوٹیز میں نمایاں کمی کی جا رہی ہے، جس سے صنعتی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے اور اصلاحات کا مقصد ملکی خزانے پر دباؤ کم کرنا اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک کو 38 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں جبکہ رواں سال یہ حجم بڑھ کر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے نکال کر فنانس ڈویژن کے تحت لایا گیا ہے تاکہ پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی میں واضح فرق قائم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی توجہ اب صرف ٹیکس اکٹھا کرنے پر مرکوز ہے جبکہ نان بینکنگ افراد کو باضابطہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف بڑھنے کے لیے ٹیرف کی ریشنلائزیشن ناگزیر ہے اور جون 2026 تک تمام حکومتی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل چینلز پر منتقل کر دیا جائے گا۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی اصلاحات پاکستان کے لیے ’’ایسٹ ایشیا موومنٹ‘‘ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق قرضوں میں کمی خود بخود نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے حکومت کے سخت اور بروقت فیصلے شامل ہیں

مزید خبریں

آپ کی راۓ