
غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آج ہونے والے تازہ فضائی حملوں میں کم از کم 31 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں 6 معصوم بچے بھی شامل ہیں، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ سٹی اور خان یونس کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں حماس اور اسلامی جہاد کے اہم رہنماؤں اور اسلحے کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی الزامات بے بنیاد ہیں اور یہ جنگ بندی معاہدے کے ضامنوں، ثالثوں اور عالمی امن کے دعویدار اداروں کی کھلی توہین ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیل اب تک 1300 سے زائد مرتبہ اس کی خلاف ورزی کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ معاہدے کے بعد 430 بار نہتے فلسطینیوں پر فائرنگ کی گئی، 66 مرتبہ رہائشی علاقوں میں چھاپے مارے گئے اور 200 سے زائد واقعات میں فلسطینی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کم از کم 50 فلسطینیوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر تقریباً 70 ہزار فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں 18 ہزار 592 بچے اور 12 ہزار 400 خواتین شامل ہیں