
پاکستان نے تین ٹی 20 میچز پر مشتمل سیریز کے آخری میچ میں بھی آسٹریلیا کو شکست دے کر کلین سوئپ کر لیا۔ یہ پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف سات سال بعد پہلی کلین سوئپ فتح ہے۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹی 20 میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مہمان ٹیم کو 208 رنز کا ہدف دیا، جس کے تعاقب میں آسٹریلوی ٹیم 16 اعشاریہ 5 اوورز میں محض 96 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ یوں قومی ٹیم نے یہ میچ 111 رنز کے بھاری مارجن سے جیت لیا۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ قومی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 207 رنز اسکور کیے۔ صائم ایوب اور بابر اعظم نے شاندار نصف سنچریاں اسکور کیں۔ صائم ایوب 56 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ بابر اعظم 50 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
دیگر کھلاڑیوں میں خواجہ نافع نے 12 گیندوں پر 21 رنز جبکہ شاداب خان نے 19 گیندوں پر 46 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل کر اسکور کو مستحکم کیا۔
ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی ٹیم کی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام رہی۔ مارکس اسٹوئنس 23 اور کیمرون گرین 22 رنز کے ساتھ نمایاں بیٹرز رہے۔
پاکستانی بولرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے ٹاپ آرڈر کو نشانہ بناتے ہوئے 2 اہم وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد نواز نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے آسٹریلوی بیٹنگ کی کمر توڑ دی۔ نسیم شاہ اور ابرار احمد نے بھی ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
محمد نواز کو شاندار بولنگ پرفارمنس پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، جبکہ کپتان سلمان علی آغا کو سیریز کا بہترین کھلاڑی منتخب کیا گیا۔
پاکستان ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ آج کے میچ کے لیے ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ ان کے مطابق فخر زمان، خواجہ نافع اور شاہین شاہ آفریدی کو فائنل الیون میں شامل کیا گیا