
راولپنڈی: راولپنڈی کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع نہ کرانے پر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے اور انہیں 6 فروری کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
عدالت کی جانب سے یہ کارروائی عمران خان کے وکلا کی درخواست پر عمل میں لائی گئی۔ دورانِ سماعت عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں وڈیو لنک کی سہولت میسر نہ ہونے اور عمران خان کی عدالت میں عدم پیشی پر بھی سپرنٹنڈنٹ سے وضاحت طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا۔
دوسری جانب عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی میڈیکل رپورٹ منظرِ عام پر آنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حساس رپورٹ لیک کیسے ہوئی، جبکہ ان کے بقول یہ رپورٹ محدود افراد تک ہی دستیاب تھی، اس کے باوجود تاحال کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
علیمہ خان نے جمعرات کے دھرنے سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ اجتماعی تھا اور اس کا تعلق کسی فرد یا خاندان کی ہدایت سے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی ان کا بنیادی مطالبہ ہے، جبکہ موجودہ قید کو انہوں نے غیر قانونی قرار دیا۔ علیمہ خان کے مطابق حکومت میں شامل عناصر عمران خان سے ملاقات کروانے سے گریزاں ہیں۔