
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں بیک وقت سخت اور مفاہمتی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایک جانب وہ جارحانہ بیانات دے رہے ہیں تو دوسری جانب مستقل امن معاہدے کی خواہش بھی ظاہر کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کو تقریباً دو ہفتے مکمل ہونے والے ہیں اور امریکی صدر اس صورتحال سے نکلنے کے لیے مختلف راستے تلاش کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسی تناظر میں صدر ٹرمپ کے قریبی معاونین اہم معلومات محدود انداز میں ان تک پہنچا رہے ہیں تاکہ ان کی بے صبری فیصلہ سازی پر اثر انداز نہ ہو۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مارچ میں ایران کی جانب سے ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کے بعد صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے فوری طور پر امریکی اہلکاروں کی واپسی کا مطالبہ کیا، تاہم زمینی حقائق کے باعث اس پر عملدرآمد پیچیدہ رہا۔
بین الاقوامی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جنگ میں امریکی فوجیوں کے ممکنہ جانی نقصان پر بھی تشویش کا شکار ہیں اور طویل تنازع سے بچنا چاہتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ بعض اوقات قومی سلامتی ٹیم کی مکمل مشاورت کے بغیر سخت بیانات جاری کرتے رہے ہیں، جنہیں ان کے مشیر مذاکرات پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ سخت اور غیر متوقع طرزِ عمل ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ وہ ایرانی اہداف پر حملوں کو اپنی کامیابی کے طور پر بھی پیش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں، تاہم ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ آئندہ مذاکرات کے لیے پاکستان آنے کا ارادہ نہیں رکھتا