
واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے ایران میں ہونے والے آپریشن کے دوران 13 افراد کے مارے جانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بہت قریب ہیں۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا افزودہ یورینیم ضبط کرکے یا تو وہیں تلف کیا جائے گا یا کسی اور مقام پر منتقل کرکے اسے ختم کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی مشن مکمل ہونے تک امریکی فوجیوں کو خطے میں موجود رہنا چاہیے، کیونکہ مستقبل میں دوبارہ ان کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ ان کے بقول امریکی فوجیوں کو واپس بلانا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران آپریشن میں امریکہ کے 13 افراد مارے گئے جبکہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ایران کے ساتھ امن معاہدہ نہیں ہوجاتا، ایرانی اثاثے غیر منجمد نہیں کیے جائیں گے اور نہ ہی پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور ایران اس حقیقت کو تسلیم کرچکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت سابق قیادت کے مقابلے میں زیادہ منطقی اور سمجھدار ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے امکانات روشن ہیں اور دونوں ممالک کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہے