امریکہ نے اگر اب حملہ کیا تو جواب سخت ترین دیاجائیگا: ایرانی افواج

2

تہران: ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ ایران پر حملے کیے تو اسے پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔

ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ خطے اور آبنائے ہرمز میں عدم استحکام کی اصل وجہ امریکا کا متضاد رویہ ہے۔ ایران نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں جنگ کی آگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور پورے خطے کے امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ایران نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایرانی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو پھر تیل اور گیس کی برآمدات یا تو سب کے لیے جاری رہیں گی یا کسی کے لیے بھی نہیں ہوں گی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر Donald Trump نے اعلان کیا ہے کہ امریکا آج رات ایران پر انتہائی طاقتور حملے کرے گا۔ ٹرمپ نے ایران کے اہم جزیرے خارگ اور تیل کے بنیادی ڈھانچے پر قبضے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

جواب میں ایران نے واضح کیا کہ وہ ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار ہے اور جزیرہ خارگ پر کسی بھی حملے کا جواب امریکا کو تباہ کن انداز میں دیا جائے گا۔

ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ Ebrahim Azizi نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج ایران اور جزیرہ خارگ کے دفاع کے لیے پوری قوت کے ساتھ تیار ہیں۔

دوسری جانب Saudi Arabia نے جنگ بندی کے دوران حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستانی میزبانی اور Qatar کی کوششوں سے شروع ہونے والے مذاکراتی عمل کو دوبارہ بحال کریں۔

ادھر ایک اہم سفارتی پیشرفت میں ایران اور United Arab Emirates کے حکام کے درمیان جنگ کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات ہوئی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران اور یو اے ای کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں یہ ملاقات مثبت پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔

اس دوران صدر ٹرمپ نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران ہار تسلیم کرتے ہوئے سفید جھنڈا لہرا دے تو اس کے ساتھ تاریخ کی بہترین ڈیل کی جا سکتی ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ