ایران امریکہ معاہدہ ہونا نیتن یاہو کی ذاتی ہار ہے

1

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی تجزیہ کار گیڈون لیوی نے کہا کہ ایران کا معاملہ نیتن یاہو کا ’’زندگی بھر کا منصوبہ‘‘ رہا ہے، تاہم موجودہ معاہدے میں اسرائیل کو مذاکراتی عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب کے پاس صرف تخریبی اقدامات کا راستہ باقی رہ گیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتوار کو بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملے بھی اسی نوعیت کی کوششوں کا حصہ تھے، تاہم ان کارروائیوں کے باوجود یہ واضح ہو چکا ہے کہ پورے عمل میں اسرائیل کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

گیڈون لیوی کے مطابق اصل امتحان ابھی باقی ہے اور یہ دیکھنا ہو گا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو کس حد تک قابو میں رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں، کیونکہ نیتن یاہو ایسے کسی بھی جنگ بندی معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں جو اسرائیل کے بنیادی اہداف پورے نہ کرے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اب بھی انتہائی نازک مرحلے میں ہے اور اس کی کامیابی کا سب سے بڑا امتحان لبنان کی صورتحال ہو گی۔

ان کے مطابق ایران لبنان کی صورتحال کو معاہدے کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی جنگ بندی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

گیڈون لیوی نے کہا کہ جب تک اسرائیلی افواج لبنان میں موجود رہیں گی اور ان کے انخلا کا کوئی واضح ارادہ سامنے نہیں آتا، مکمل جنگ بندی کا قیام مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ اسرائیلی موجودگی کے خلاف مزاحمت جاری رہنے کا امکان برقرار رہے گا

مزید خبریں

آپ کی راۓ