ایرانی میزائل پروگرام امن مذاکرات کا ایجنڈانہیں: شہباز شریف

1

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا معاملہ امن مذاکرات کے ایجنڈے کا حصہ نہیں تھا، اگر ایران اپنے دفاع کے لیے بیلسٹک میزائل رکھتا ہے تو دنیا کے کئی ممالک بھی ایسی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے صرف ایران کے میزائل پروگرام پر سوال اٹھانا درست نہیں۔

اسلام آباد میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات تاریخی، برادرانہ اور انتہائی قریبی ہیں۔ انہوں نے فارسی شعر کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے عزم کا اظہار بھی کیا، جس پر ایرانی وفد نے تالیاں بجا کر خیرمقدم کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ایک بڑی کامیابی ہے اور پاکستان نے بطور ثالث اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا حصول خوشی کا لمحہ ہے اور دعا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں امن کے ایک نئے دور کا آغاز ہو۔

شہباز شریف نے ایران میں شہید ہونے والے افراد پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی عوام کے حوصلے اور عزم کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پائیدار امن کے قیام تک اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قطر کے امیر، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے امن کوششوں کی بھرپور حمایت کی، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک محنت بھی اس کامیابی میں اہم رہی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران ہر شعبے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں گے اور دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر امن عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، تاہم پاکستان اور ایران ایسے عناصر کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے۔

سوال و جواب کے سیشن میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ بیلسٹک میزائلوں کا معاملہ مذاکراتی میز پر زیر بحث نہیں آیا اور نہ ہی یہ ایجنڈے کا حصہ تھا۔

اس موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب کا آغاز علامہ محمد اقبال کے شعر سے کیا اور کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات منفرد نوعیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ایران کا بھائی اور قریبی دوست ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئی اور مذاکراتی عمل میں پاکستان نے مؤثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ ایران اپنے میزائل پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ملاقات بھی ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا

مزید خبریں

آپ کی راۓ