
اسلام آباد: ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان پاکستان کا ایک روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد واپس ایران روانہ ہوگئے۔
نور خان ایئربیس پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی صدر کو رخصت کیا، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ایرانی صدر کو دورہ پاکستان کی یادگار کے طور پر ایک تصویری البم بھی پیش کیا گیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان صرف ہمارا ہمسایہ نہیں بلکہ ایک برادر اور دوست ملک ہے، دونوں ممالک کے عوام کی منزل اور مفادات مشترک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات منفرد نوعیت کے حامل ہیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور ایرانی عوام و حکومت پاکستان کی حمایت پر شکر گزار ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کا کردار قابلِ تحسین ہے اور مذاکراتی عمل میں اسلام آباد نے انتہائی مثبت کردار ادا کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایک بڑی کامیابی ہے اور پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان پائیدار امن معاہدے تک اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے ایران کے میزائل پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام کبھی بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں رہا اور یہ مناسب نہیں کہ دیگر ممالک کے پاس میزائل صلاحیت موجود ہو جبکہ ایران کو اس حق سے محروم رکھا جائے