
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی کارروائی کا جواب خطے کے بنیادی انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکا کو حالیہ 10 روزہ جنگ سے یہ سبق سیکھ لینا چاہیے کہ ایران جہاں چاہے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ نے کوئی نئی چال چلنے کی کوشش کی تو امریکا کو صرف ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر آبنائے ہرمز میں ایران پر کوئی حملہ یا کارروائی کی گئی تو اس کے جواب میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں کسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکی فوج جواباً ایران کے اندر کسی نہ کسی پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گی۔
ٹرمپ نے گزشتہ روز نطنز کے قریب واقع کوہ کولانگ کے حوالے سے بھی کہا تھا کہ امریکا بہت جلد وہاں کارروائی کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کوہ کولانگ کا نام لے کر ایران پر نئے حملوں کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ وہاں کوئی ایٹمی سرگرمی نہیں ہو رہی