لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر کشمیریوں کا بڑا مظاہرہ

5

لندن (نیوز ڈیسک): تحریکِ کشمیر برطانیہ کے زیرِ اہتمام ‘یومِ استحصالِ کشمیر’ کے موقع پر لندن میں واقع بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں شریک افراد نے بھارتی مظالم، ڈیموگرافک تبدیلیوں اور 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا اعادہ کیا۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صدر تحریکِ کشمیر برطانیہ فہیم کیانی نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کا حقیقی محافظ ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام کو پاکستان کا تحفظ حاصل نہ ہوتا تو وہ بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی طرح خوف کی زندگی بسر کرنے اور بھارتی مظالم برداشت کرنے پر مجبور ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی میں "ڈیموگرافک دہشت گردی” میں ملوث ہے اور کشمیریوں کی تاریخی و ثقافتی شناخت کو ختم کرنا چاہتا ہے، لیکن مقبوضہ کشمیر کے غیرت مند عوام دس لاکھ بھارتی افواج کے جبری قبضے کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے۔ فہیم کیانی نے مطالبہ کیا کہ تمام اسیر حریت رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے اور اقوامِ متحدہ اپنا فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر روانہ کرے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مزمل ٹھاکر، محمد غالب، راجہ سکندر اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت نے غیر قانونی طور پر کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حیثیت کو تبدیل کیا تھا، جس کے خلاف کشمیری اور ان کے حامی آج بھی سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئله کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوب ایشیائی خطے میں امن و استحکام کا قیام ممکن نہیں۔

شرکائے مظاہرہ نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ بھارت آج بھی کشمیر پر غاصبانہ طور پر قابض ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور کشمیری شناخت کو مسخ کرنے کی بھارتی کوششیں قابلِ مذمت ہیں، اور بھارت تمام تر جابرانہ اقدامات کے باوجود کشمیریوں کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔

مزید خبریں

آپ کی راۓ