
اقلیتوں کے قومی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی تعمیر و ترقی، تعلیم، عدلیہ اور ملکی دفاع میں غیر مسلم برادریوں (مسیحی، ہندو، سکھ اور پارسی) کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے 11 اگست 1947ء کے قائد اعظم کے تاریخی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان تمام شہریوں کو بغیر کسی مذہبی تفریق کے مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔
خطاب کے دوران وزیراعظم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنے اور ملک میں تعلیم و صحت کے شعبوں کی بہتری پر بھی زور دیا۔
پاکستان کے اہم تاریخی معاہدے
پاکستان کی تاریخ میں کئی اہم دفاعی، سفارتی اور معاشی معاہدے طے پائے جنہوں نے ملکی سلامتی اور خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے:
معاہدہ لیاقت نہرو (1950ء): پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان طے پانے والا معاہدہ جس کا مقصد دونوں ممالک میں اقلیتوں کے حقوق، ان کے مال و جان کا تحفظ اور سرحد پار ہجرت سے جڑے مسائل کو حل کرنا تھا۔
سیٹو (SEATO – 1954ء) اور سینٹو (CENTO – 1955ء): سرد جنگ کے دوران پاکستان نے امریکہ اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ یہ دفاعی پیمان کیے، جن کا مقصد کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنا اور رکن ممالک کا باہمی دفاع یقینی بنانا تھا۔
سندھ طاس معاہدہ (1960ء): عالمی بینک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم کا تاریخی معاہدہ، جس کے تحت سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے جبکہ راوی، ستلج اور بیاس بھارت کے حصے میں آئے۔
اعلامیہ تاشقند (1966ء): 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد سوویت یونین (روس) کی ثالثی میں طے پانے والا امن معاہدہ، جس کے تحت دونوں ممالک نے اپنی افواج کو جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس بلانے پر اتفاق کیا۔
معاہدہ شملہ (1972ء): 1971ء کی جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان طے پایا۔ اس کے تحت 90 ہزار سے زائد پاکستانی جنگی قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی اور دوطرفہ تنازعات کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے کے اصول پر اتفاق کیا گیا۔
اعلامیہ لاہور (1999ء): دونوں ممالک کے ایٹمی قوت بننے کے بعد وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے درمیان طے پانے والا معاہدہ، جس کا مقصد ایٹمی خطرات کو کم کرنا اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام امور پر مذاکرات کا آغاز کرنا تھا۔
پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC – 2015ء): پاکستان اور چین کے درمیان اربوں ڈالر کا تاریخی معاشی و بنیادی ڈھانچے کا معاہدہ، جو چین کے "بیلٹ اینڈ روڈ” وژن کا اہم حصہ ہے اور جس کے تحت گوادر پورٹ سمیت توانائی و مواصلات کے درجنوں منصوبے شامل ہیں۔