
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہا پر: ایران کے جزیرے قشم، سیرک اور میناب میں متعدد دھماکے، اہم تنصیبات پر پروجیکٹائل حملوں کی اطلاعات
تہران / واشنگٹن (نیوز ڈیسک)
مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے مابین جاری کشیدگی سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے اہم ساحلی جزیرے قشم اور شہر سیرک میں متعدد زور دار دھماکے سنے گئے ہیں، جس سے خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سیرک کے مختلف علاقوں کو پروجیکٹائل (میزائل یا راکٹ نما گولہ بارود) کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب میناب شہر میں بھی مسلسل دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ مقامی انتظامیہ اور حکام کے مطابق میناب میں سنائی دینے والی آوازیں سمندر کی سمت سے موصول ہوئیں، جس کے بعد ساحلی پٹی پر ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔
تازہ حملوں کا یہ سلسلہ خطے میں حالیہ براہِ راست محاذ آرائی کا تسلسل ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی افواج نے فضائی و بحری کارروائیاں کرتے ہوئے ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کر دیے تھے، جس پر خطے میں شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔
اس کے جواب میں ایران کی جانب سے بھی بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔ ایرانی حکام نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے خلیج فارس میں دو امریکی جنگی جہازوں اور 8 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے ممنوعہ سمندری علاقے سے گزرنے کی کوشش پر مزید 10 بحری جہازوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
سمندری گزرگاہوں اور اہم جزائر پر پے در پے حملوں کے باعث بین الاقوامی بحری نقل و حمل اور تیل کی ترسیل کے راستے شدید خطرات سے دوچار ہو گئے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مکمل جنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔