سینیٹر مشتاق نے نئی سیاسی جماعت پاکستان رائٹس موومنٹ کے قیام کا اعلان کر دیا

141

 

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان رائٹس موومنٹ 1973 کے آئین کی بنیاد پر ملک کی ازسرِنو تعمیر اور تشکیل کا عمل شروع کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ 1973 کا آئین ایک عظیم نعمت ہے اور اس کی تدوین کرنے والے رہنماؤں کو وہ خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ آئین پر حقیقی عمل درآمد کے ذریعے پاکستان کو ایک اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست بنایا جا سکتا ہے۔

مشتاق احمد خان کے مطابق 1973 کے آئین نے اسلامی تشخص کو واضح طور پر متعین کر دیا ہے، جس میں حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے اور قرآن و سنت کو بالادست قانون قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت صدر اور وزیراعظم کا مسلمان ہونا لازم ہے جبکہ اہم ریاستی عہدوں کے لیے ختمِ نبوت کا حلف بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ایسے پاکستان کی خواہاں ہے جہاں آمریت اور ہائبرڈ نظام کا خاتمہ ہو اور حقیقی جمہوریت کے ساتھ ووٹ کے تقدس کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں اظہارِ رائے پر پابندیاں نہ ہوں، زبان بندی کا کلچر ختم ہو، فوری اور مفت انصاف دستیاب ہو اور اقلیتیں خوف کے بغیر اپنے حقوق سے مستفید ہو سکیں۔

مشتاق احمد خان نے مزید کہا کہ وہ ایسے پاکستان کا خواب دیکھتے ہیں جہاں جبری گمشدگیاں، فوجی آپریشن اور ماورائے عدالت اقدامات نہ ہوں، اور جہاں مسخ شدہ لاشیں ملنے جیسے واقعات ختم ہوں۔ ان کے مطابق پاکستان کو فلسطین اور کشمیر کی آزادی کے لیے بھرپور اور عملی کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی بھی ان کے منشور کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقوق، مزاحمت اور اصلاحات کے نعرے کے تحت ان کی جماعت ایک فلاحی اسلامی جمہوری ریاست کے قیام کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کر رہی ہے۔

مزید خبریں

آپ کی راۓ