ایرانی رہبر پے حملہ مکمل جنگ کے مترادف ہوگا:ایرانی صدر

9

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللٰہ علی خامنہ ای پر کسی بھی قسم کا حملہ خطے میں مکمل جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔

اپنے بیان میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کو درپیش مشکلات کی بنیادی وجہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کی گئی غیر انسانی پابندیاں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپریم لیڈر کے خلاف کسی بھی جارحیت کو ایرانی قوم کے خلاف کھلی جنگ تصور کیا جائے گا۔

ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں نئی قیادت کی تلاش کی بات کی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کا وقت آ چکا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان اس پس منظر میں آیا جب ایران میں حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے ملک گیر احتجاج کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں۔

گزشتہ روز ایرانی سپریم لیڈر آیت اللٰہ علی خامنہ ای نے ایران میں ہونے والی ہلاکتوں اور بدامنی کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا تھا۔ اس کے ردعمل میں ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے حکمران اقتدار برقرار رکھنے کے لیے جبر اور تشدد پر انحصار کرتے ہیں، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے کسی نے قائل نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود یہ فیصلہ کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ قیادت کا مطلب احترام ہے، خوف اور موت نہیں۔ اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ہزاروں افراد کو قتل کرنے کے بجائے حکمرانوں کو ملک کو بہتر انداز میں چلانے پر توجہ دینی چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ناقص قیادت کے باعث ایران دنیا میں رہنے کے لیے بدترین جگہ بن چکا ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ