صوبے اور عوام کے مفاد کےلئےسب کیساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں: سہیل آفریدی

46

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور اداروں کو مل بیٹھ کر پالیسی سازی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صوبے اور عوام کے مفاد میں سب کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔

پیر کے روز وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اچانک خیبرپختونخوا اسمبلی پہنچے جہاں انہوں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ اسمبلی کے باہر ’وی نیوز‘ سے مختصر گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ بات چیت کے دروازے بند نہیں ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا وہ خود بھی اداروں کے ساتھ بیٹھیں گے، وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے اور عوام کی خاطر وہ ہر فورم پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسمبلی اجلاس سے پرجوش خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ روز جاری ہونے والی پریس ریلیز وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی کا باعث بنی، جبکہ 24 رکنی کمیٹی نے تیراہ میں آپریشن کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب کسی بھی وفاقی ادارے یا وفاقی حکومت کے ساتھ کمیونیکیشن زبانی نہیں بلکہ تحریری ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے وفاق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئی ڈی پیز کی ادائیگی کی مد میں آج بھی وفاق کے ذمے 52 ارب روپے بقایا ہیں، جبکہ مجموعی طور پر وفاق کے ذمہ 4 ہزار 758 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف صوبہ دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے اور دوسری طرف وفاق بقایاجات ادا نہیں کر رہا۔

سہیل آفریدی نے مشورہ دیا کہ مستقل اور پائیدار امن کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومت کو ایک میز پر بٹھا کر مشترکہ پالیسی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پر ایک بار پھر دہشتگردی مسلط کی گئی ہے اور ان کی جمہوری حکومت کو ایک منصوبے کے تحت گرایا گیا، تاہم بدامنی میں کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کا قصور نہیں

مزید خبریں

آپ کی راۓ