امریکہ بھارت تجارتی کشیدگی ختم معاہدہ طے

23

بھارت اور امریکا کے درمیان شدید تناؤ، سخت بیانات اور بھاری تجارتی محصولات کے بعد بالآخر ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق یہ پیش رفت اچانک نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے مہینوں پر محیط خاموش سفارت کاری، پسِ پردہ رابطے اور اسٹریٹجک صبر کارفرما رہا۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر میں چین میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے فوراً بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو واشنگٹن روانہ کیا، تاکہ امریکا کے ساتھ بگڑتے تعلقات کو سنبھالا جا سکے۔ واشنگٹن میں اجیت دوول نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے دوران واضح پیغام دیا کہ بھارت امریکا کے ساتھ تلخی ختم کر کے دوبارہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کا خواہاں ہے۔

بھارتی موقف میں یہ بھی شامل تھا کہ نئی دہلی صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے دباؤ میں نہیں آئے گا اور اگر ضرورت پڑی تو ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے خاتمے تک انتظار کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ اجیت دوول نے اس موقع پر امریکی حکام پر زور دیا کہ بھارت پر کھلی تنقید میں کمی کی جائے تاکہ دوطرفہ تعلقات دوبارہ درست سمت میں آگے بڑھ سکیں۔

واضح رہے کہ اس وقت بھارت صدر ٹرمپ کے سخت بیانات اور اگست میں عائد کیے گئے 50 فیصد تجارتی محصولات پر شدید ناراض تھا۔ صدر ٹرمپ نے بھارت کو ’’مردہ معیشت‘‘ قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ بھارت روسی تیل خرید کر یوکرین جنگ کی مالی معاونت کر رہا ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ