
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی سے انکار کے بیان کے فوراً بعد ایک متضاد مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا جنگی اہداف کے حصول کے قریب ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی متعلقہ ممالک پر ڈال دی اور کہا کہ وہ خود اس کی حفاظت کریں، امریکا صرف مدد کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے چین کی ممکنہ مداخلت کو مثبت قرار دیا جبکہ برطانیہ کے ردعمل کو تاخیر کا شکار بتایا۔
صدر ٹرمپ نے نیٹو ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا کے بغیر نیٹو ایک “کاغذی شیر” ہے اور اتحادی ممالک آبنائے ہرمز کے معاملے پر سنجیدہ نہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے