
پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مذاکرات میں پیشرفت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں، تاہم جنگ بندی کی قریب آتی ڈیڈ لائن اور بعض رکاوٹوں کے باعث غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق ایک سینیئر پاکستانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ایران آئندہ ایک یا دو روز میں مذاکرات میں شریک ہو جائے، جبکہ پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں میں مصروف ہے۔
دوسری جانب ایک ایرانی عہدیدار کے مطابق ایران مذاکرات میں شرکت پر “مثبت غور” کر رہا ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کو مذاکرات میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے امریکا پر دباؤ کے ذریعے مذاکرات مسلط کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا ہے کہ نیا معاہدہ ماضی سے بہتر اور عالمی امن کے لیے مؤثر ہوگا۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی اس ہفتے ختم ہو رہی ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے، تاہم ایران کی ممکنہ شرکت کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے