اسلام آباد مذاکرات نیتن یاہو پریشان

46

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں بنیامین نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی رہنما پاکستان میں جاری اہم سفارتی کوششوں کی کامیابی کے خواہاں دکھائی نہیں دیتے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قیادت اس بات کی امید کر رہی ہے کہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچیں، تاکہ ایران اور لبنان میں جاری عسکری کارروائیوں کو جاری رکھا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق موجودہ جنگی صورتحال وقتی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے باعث تھمی ہوئی ہے، تاہم اسرائیلی حکومت اسے اپنے اسٹریٹیجک اہداف کے لیے غیر موزوں سمجھتی ہے۔ اسرائیل ماضی میں ایران اور لبنان کے محاذوں پر اپنی کامیابی کے دعوے کرتا رہا ہے، مگر اب زمینی حقائق کچھ مختلف نظر آ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل پہلے ایران اور لبنان کے محاذوں کو الگ الگ قرار دیتا رہا، لیکن اب خاص طور پر جنوبی لبنان میں اس کی پوزیشن کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے، جس کے باعث اس کے آپشنز محدود ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے نعیم قاسم کو سخت دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ انہیں بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے اور اسرائیل انہیں نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرے تاکہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نہ صرف حزب اللہ کی غیر مسلحی کا مطالبہ کر رہا ہے بلکہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں سخت نتائج کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ادھر شمالی اسرائیل میں عوامی بے چینی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جہاں شہری مسلسل راکٹ حملوں کے خطرے سے دوچار ہیں، جو حکومت کے لیے اضافی دباؤ کا سبب بن رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل آئندہ دنوں میں مزید سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے، جن میں لبنان میں فوجی موجودگی بڑھانا، زیرِ قبضہ علاقوں سے انخلاء سے انکار اور کسی بھی ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں شامل ہو سکتی ہیں، تاکہ وہ ایران اور لبنان میں اپنے اہداف حاصل کر سکے۔

یہ تمام پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں امن کی کوششیں تاحال غیر یقینی کا شکار ہیں اور کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے

مزید خبریں

آپ کی راۓ